1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکہ نے ایبٹ آباد سے ملنے والی معلومات آگے بڑھا دیں‘

امریکہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے حاصل ہونے والی معلومات دیگر ممالک کو بھی فراہم کی ہیں۔ اس بات کی تصدیق نامعلوم امریکی اور بعض مغربی حکام نے کی ہے۔

default

خبررساں ادارےے روئٹرز نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امریکی اور دیگر مغربی ممالک کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ نے بن لادن کی رہائش گاہ سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات متعدد ممالک کو فراہم کر دی ہیں۔ تاہم ایسے ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ابیٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی اشیا میں ہاتھ سے تحریر کردہ جرنل بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی سی آئی اے نے امریکی سینیٹروں کو دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وہ تصاویر دکھانا شروع کر دی ہیں، جو اس کی ہلاکت کے بعد لی گئی تھیں۔

ریپبلیکن سینیٹر جیمز انہوف نے کہا ہے کہ وہ ایسی پندرہ تصویریں دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسامہ کی لاش کی تصویریں کافی بھیانک ہیں۔

روس کا مؤقف:

روس نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا امریکی اقدام درست تھا۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ماسکو حکومت اس معاملے میں واشنگٹن کی بھرپور حمایت کرتی ہیں اور اسے پاکستان کے اندر ایسی کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس حوالے سے روس کے صدر دیمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ اسامہ کی ہلاکت سے روس کو اپنے بعض علاقوں میں اسلامی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

Pakistan Regierungsbündnis bricht auseinander, Nawaz Sharif

نواز شریف

پرویز مشرف اور نواز شریف:

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا چھوڑنے پر القاعدہ اور اسلام پسندوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنے پڑے گا۔ اے بی سی نیوز کے ساتھ انٹرویو میں مشرف نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان نے اپنی سرزمین پر اسامہ کی ہلاکت کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔

پاکستان کی مرکزی اپوزیشن جماعت پی ایم ایل این کے رہنما نواز شریف نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو ایسا تفتیشی عمل شروع کرنے کے لیے تین دِن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا، ’حکومت کو چاہیے کہ ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا اس کی تحقیق کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن مقرر کرے۔‘

انہوں نے ملکی خودمختاری کے تحفظ میں ناکامی پر فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد پاکستانی پاسپورٹ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM