1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ نے آخری قیدی بھی عراقی حکام کے حوالے کر دیا

امریکہ نے عراق میں زیرحراست آخری قیدی بھی جمعے کو عراقی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ اس قیدی پر الزام تھا کہ وہ مبینہ طور پر متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

default

امریکی حکام نے کئی ماہ تک بغداد حکومت کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ اس قیدی کی ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے جائیں تاہم عراقی حکومت اس پر رضامند نہ ہوئی۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سکیورٹی کونسل کے ترجمان Tommy Vietor نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا کہ عراقی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے علی موسیٰ داقدق کو اس پر عائد الزامات کے تحت عراق میں مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

تاہم اس حوالے سے کانگریس کی جانب سے ابتدائی ردعمل تشویش پر مبنی تھا۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت داقدق کو زیادہ دیر قید رکھنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔ امریکی سینیٹر سکسبی چیمبلِس نے اوباما انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ’خطرناک دہشت گردوں‘ سے نمٹنے کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

USA Irak Rückzug

گزشتہ ہفتے عراق سے امریکی فوجیوں کا آخری دستہ پر نکل گیا تھا

داقدق پر الزام ے کہ وہ سن 2007ء میں پانچ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ بنا۔ اسی مقدمے کی وجہ سے امریکی قانون سازوں کو تحفظات تھے کہ امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلا کے بعد ایسے خطرناک قیدیوں کو عراقی حکومت کس طرح قابو میں رکھ سکے گی۔

امریکی حکام کے مطابق آخری لمحے تک کوشش کی گئی کہ داقدق کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔ روئٹرز کے مطابق نومبر میں جب امریکی فوج کے زیرحراست دیگر قیدیوں کو عراقی حکام کے حوالے کیا گیا تھا، تو داقدق کو فوجی حراست ہی میں رہنے دیا گیا تھا۔ اس قیدی کو امریکہ منتقل کرنے کے حوالے سے بھرپور کوشش جمعے کے روز کی گئی تاہم یہ ڈیل طے نہ ہو پائی۔

امریکی حکام کے مطابق جمعے کی صبح داقدق کو عراقی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا امریکی حکام داقدق کی عراق سے بے دخلی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، یا اس پر عراق ہی میں مقدمہ چلانے اور سزا دلوانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کریں گے۔

رپورٹ: عاطف توقیر/ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM