1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ میں کاروباری اداروں کے لئے زیادہ سخت ضوابط کا اعلان

نئی امریکی حکومت نے سرکاری امداد حاصل کرنے والی کمپنیوں کے لئے آئندہ زیادہ سخت ضوابط متعارف کروانے اور اُن کے مینیجروں کی تنخواہیں زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ ڈالر سالانہ تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

بدھ کے روز اپنے اِن منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے صدر باراک اوباما نے کہا کہ اقتصادی بحران کے اِس دَور میں وہ صنعتی اور کاروباری اداروں کی جانب سے رخصت ہونے والے ملازمین کو یک مُشت بھاری رقوم دینے کی روایت برداشت نہیں کریں گے۔

’’پانچ لاکھ ڈالر‘‘، امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے بتائی ہوئی اِس رقم کو سننے کے لئے امریکی بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور موٹر ساز اداروں کے چوٹی کے منیجر کان لگائے بیٹھے تھے۔ یعنی آئندہ دیوالیہ ہو جانے والے اور اپنی بقا کے لئے سرکاری امداد کے محتاج بڑے اداروں کے چوٹی کے مینیجرز اور سربراہوں کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ پانچ لاکھ ڈالر سالانہ ہوا کرے گی۔

امریکی حکومت کے زاویہء نگاہ سے دیکھا جائے تو ایسے اداروں میں جنرل موٹرز اور بڑی انشورنس کمپنی اے آئی جی کے ساتھ ساتھ بینک آف امیریکہ اور سٹی گروپ جیسے بینک بھی شامل ہیں۔ اِن کے چوٹی کے مینیجر جزوی طور پر اپنے پرائیویٹ جَیٹ طیاروں میں بیٹھ کر واشنٹگن گئے تھے، جہاں اُنہوں نے ٹیکسوں کی مَد میں جمع ہونے والی اربوں ڈالر کی رقوم میں سے اپنے اداروں کے لئے امداد طلب کی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے اپنے اداروں سےسالانہ تنخواہ اور بونَس کی مَد میں بیس ملین ڈالر تک کی رقوم بھی حاصل کیں۔

اوباما کی نظر میں یہ مینیجرز کی بے شرمی کی انتہا تھی: ’’یہ عین وہی شرم ناک غیر ذمہ داری ہے، جو امریکہ کے اقتصادی بحران کا باعث بنی ہے۔‘‘

اوباما کے اِس اعلان کے فوراً بعد واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹر سیسی کونولی نے قومی ریڈیو چینل اَین پی آر پر آ کر اِس اعلان پر طنز کرتے ہوئے یہ کہا کہ امریکی رائے عامہ کو یہ بات بہت زیادہ متاثر کرے گی کہ ناکام مینیجروں کو آئندہ محض نصف ملین ڈالر سالانہ پر گذارا کرنا پڑے گا کیونکہ درحقیقت یہ ایک عام امریکی کے لئے بہت ہی بڑی رقم ہے۔

Symbolfoto Grafik Citigroup in der Krise

پے در پے کئی امریکی مالیاتی ادارے عالمی اقتصادی بحران کی زد میں آئے

کونولی نے کہا: ’’اگر تم پوری سنجیدگی کے ساتھ امریکہ کے کسی اَوسط تنخواہ پانے والے شخص کو اتنی بڑی رقم کا بتاؤ گے تو وہ تو آگے سے ہُوٹنگ ہی کرے گا۔’’

بہرحال اوباما اور اُن کے وزیر مالیات آئندہ ہر طرح کی سرکاری امداد کے ساتھ ساتھ واضح شرائط بھی منسلک کریں گے۔ گولڈن ہینڈ شیک جیسے اقدامات اب نہیں ہوں گے۔ سبکدوش ہونے والے مینیجروں کو کئی ملین ڈالر کی ادائیگیاں اب قصہء ماضی بن کر رہ جائیں گی، خاص طور پر اُس صورت میں، جب اُن کے اداروں کو تباہی سے بچانے کے لئے عوامی ٹیکسوں سے رقوم فراہم کی جائیں گی۔

واشنگٹن کے ذمہ داری اور اخلاقیات سے متعلق انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر میلانی سلون نے ریڈیو چینل اَین پی آر سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کے اقدامات محض ٹیکس ادا کرنے والوں کی جانب ہی منصفانہ نہیں ہیں بلکہ مینیجروں کی تنخواہوں کو محدود بنانے سے انکار کرنے والے ہر کاروباری ادارے کے پاس اب یہ فیصلہ کرنے کا امکان ہو گا کہ وہ سرکاری امداد نہ لے۔

دوسری جانب اوباما نے یہ فیصلہ آئندہ پر چھوڑ دیا ہے کہ تب کیا ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے، جب مثلاً دیوالیہ ہو جانے کے خطرے سے دوچار جنرل موٹرز کا سربراہ مستقبل میں اپنی چَودہ ملین ڈالر سالانہ تنخواہ کے ایک بڑے حصے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دے گا۔ اوبامہ کو البتہ اِس ہفتے کچھ اور ہی پریشانی ہے، اُنہیں خاص طور پر یہ خدشہ ہے کہ کہیں سینٹ میں ری پبلکن اراکین اُن کے اربوں ڈالر کے امدادی پیکیج کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کر دیں۔

اوباما نے کہا: ’’اگر جلد کوئی عملی اقدامات نہ کئے گئے تو سنگین بحران بڑھ کر ایک تباہی کی شکل اختیار کر جائے گا۔‘‘ اور بلا شبہ امریکی صدر کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں۔