1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں ممبئی حملوں کے الزام میں چار مزید پاکستانی ملزمان نامزد

امریکی استغاثہ نے مزید چار پاکستانی شہریوں کو 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت پسندانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزام میں نامزد کر دیا ہے۔

default

ان افراد کے نام ساجد میر، ابو قہافہ، مظہر اقبال اور ’میجر اقبال‘ بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی امریکی حراست میں نہیں ہے اور نہ ہی امریکی حکام کے مطابق اُنہیں پتہ ہے کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ ان ملزمان کا پہلے ذکر تو کیا گیا تھا تاہم نام پہلی مرتبہ بتائے گئے ہیں۔ ممبئی حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد پاکستان میں ہیں۔

ان افراد کا تعلق پاکستانی تنظیم لشکرِ طیّبہ سے بتایا گیا۔ لشکر ِ طیّبہ پر ممبئی حملوں میں ملوّث ہونے کا الزام ہے۔ بھارتی حکومت یہ الزام تواتر کے ساتھ لگاتی رہی ہے۔ امریکہ لشکرِ طیّبہ کو دہشت گرد تنظیموں میں شمار کرتا ہے۔

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008

ممبئی حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے

مزید برآں امریکہ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ ہیڈلی اور شکاگو سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد بزنس مین تہوّر رانا کو ممبئی میں اہداف کا تعین کرنے کے الزام میں نامزد کیا گیا۔ ہیڈلی اور رانا پر ایک ڈینش اخبار پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ ہیڈلی نے مارچ دو ہزار دس میں اقرارِ جرم کر لیا تھا اور وہ اس حوالے سے امریکی تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ رانا دو ہزار نو سے امریکی حراست میں ہے اور اس پر مقدمے کا آغاز سولہ مئی سے ہوگا۔

ممبئی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات بے حد خراب ہو گئے تھے۔ بھارت کا موقف ہے کہ پاکستانی حکومت اس واقعے میں ملوّث افراد کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی لشکرِ طیّبہ کے خلاف اس نے کوئی ٹھوس اقدام اٹھایا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں کے حوالے سے دیے گئے ثبوت ناکافی ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان اس حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور دو طرفہ بات چیت کا آغاز ہوا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت امجد علی

DW.COM