1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں لیبیا کے باغیوں کی حوصلہ افزائی، توقع سے کم

امریکہ میں لیبیا کے باغیوں کی سفارتی سطح پر پہلی مرتبہ نمائندگی کرنے والے محمود جبریل کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے مکمل سفارتی اعتراف حاصل نہیں ہو پایا ہے۔

default

وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ فی الحال امریکہ سرمایے کی قلت کے شکار لیبیا کے باغیوں کی مالی امداد کے کسی منصوبے پر غور نہیں کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے معمر قذافی کے خلاف باغیوں کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے، باغیوں کی تشکیل کردہ قومی عبوری کونسل کو لیبیا کی عوام کی ’آواز‘ قرار دیا ہے۔

Libyen Bengasi Gebet

باغیوں کی مزاحمت جاری ہے

وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکہ انتظامیہ کانگریس کے ساتھ اس حوالے سے مل کر کام کرنے میں مصروف ہے تاکہ قانون میں تبدیلی کر کے امریکہ میں معمر قذافی کے منجمد کردہ 30 بلین ڈالر کے اثاثہ جات میں سے کچھ حصہ باغیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

باغیوں کے رہنماؤں میں دوسرے نمبر پر اہم ترین سمجھے جانے والے جبریل نے واشنگٹن میں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر Tom Donilon سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران Tom Donilon کی طرف سے کہا گیا کہ امریکہ قومی عبوری کونسل کو لیبیا کی عوام کی قابل اعتبار آواز سمجھتا ہے۔ Tom Donilon نے ایک مرتبہ پھر صدر اوباما کے مطالبے کو دوہراتے ہوئے کہا کہ معمر قذافی اپنی قانون حیثیت کھو چکے ہیں اور انہیں حکومت سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔

Tom Donilon نے کہا کہ ملاقات میں غور کیا گیا کہ لیبیا میں باغیوں کی امداد مزید کس کس طرح کی جا سکتی ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا محمود جبریل اپنے اس دورے میں امریکی صدر اوباما سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM