1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ میں قرآن نذر آتش کرنے کا منصوبہ قابل مذمت، جنرل پیٹریاس

امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک چرچ نےگیارہ ستمبرکو مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو نذر آتش کرنےکا جو متنازعہ اعلان کیا ہے، اس پر مختلف حلقوں اور ممالک کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

default

ریاست فلوریڈا کے ایک کلیسا کے اعلان کے مطابق گیارہ ستمبر کو قرآن کے نسخے نذر آتش کرنے کے پروگرام پر ضرور عمل کیا جائے گا۔ ’ڈوو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر‘ کے پادری ٹیری جونز نے کہا ہے کہ ان کا چرچ گیارہ سمتبر 2001 ء کے دہشت گردانہ حملوں کے نو برس پورے ہونے پر ان حملوں کی یاد اپنے ہی انداز میں تازہ کرنا چاہتا ہے۔

اس بہت متنازعہ بن جانے والے منصوبے پر اپنے ردعمل میں افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ میں قرآن نذز آتش کئے گئے تو اس سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی زندگیاں اور بھی شدید خطرات کا شکار ہو جائیں گی۔

امریکی کمانڈر کی جانب سے یہ بیان افغان دارالحکومت کابل میں ہزاروں افراد کی جانب سے چرچ کے اس منصوبے کے خلاف مظاہرہ کے بعد سامنے آیا۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین، جن میں زیادہ ترایک مذہبی اسکول کے طلبہ تھے، امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو دستوں کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قرآن نذر آتش کرنے کے مجوزہ منصوبے سے صدر باراک اوباما کی دنیا بھر کی مسلم آبادی کو ساتھ ملانے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ساتھ ہی افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہو گا اور تعمیر نو کے زیر عمل منصوبوں کے حوالے سے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔

Afghanischen Studenten brennen ein Bildnis während einer Demonstration gegen die Reproduktion der Darstellung von Karikaturen des Propheten Mohammed

کابل میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف بھی شدید رد عمل سامنے آیا تھا

نیٹو کمانڈر کے بقول اگر فلوریڈا میں قرآن کے نسخوں کو نذز آتش کیا جاتا ہے تو طالبان اس کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے لئے ہمدردیاں جمع کر سکتے ہیں اور وہ اسی طرح کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات صرف افغانستان کی ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ دنیا بھر میں مسلم برادری کے ساتھ مل کرکام کر رہا ہے۔

ریاست فلوریڈا کے اس چرچ کی ویب سائٹ سے یہ پیغام شائع کیا گیا ہے کہ یہ کلیسا اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طور پر بے نقاب کرنا چاہتا ہے، جو تشدد کا درس دیتا ہے۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کے مطابق واشنگٹن حکومت کسی بھی اسلام مخالف عمل کی تائید نہیں کرتی اور اسے قرآن کے نسخے نذر آتش کرنے کے منصوبے پر تشویش ہے۔

دوسری جانب تقریباً ایک ہزار انڈونیشی مسلمانوں نے جکارتہ میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر فلوریڈا کے اس چرچ نے اپنے منصوبے کو عملی شکل دی تو اس کا جواب جہاد کی صورت میں دیا جائےگا۔ اس مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اور مسیحی رہنماؤں کو اس اشتعال انگیز منصوبے کو رکوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسی حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغربی ممالک کو آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ مصر کی جامعہ الازہر سمیت کئی سرکردہ مسلم اداروں اور گروپوں نے بھی قرآن کے نسخے نذر آتش کرنے کے اس متنازعہ منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: عاطف بلوچ

ویب لنکس