1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لئے امید کی کرن

امریکہ کے 100 سے زیادہ شہروں میں تارکینِ وطن کے حق میں مظاہروں کے بعد ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے سخت امیگریشن قانون کے دو ضوابط کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

default

امریکہ میں 11,5 تا 12ملین غیر ملکی باشندے قیام کے اجازت نامے کے بغیر مقیم ہیں۔اِن غیر ملکیوں کو امریکہ میں قیام کی اجازت دئے جانے کے حق میں گذشتہ تین ہفتوں سے ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پیر دَس اپریل کو بھی امریکہ کے 100 سے زیادہ شہروں میں جلوس نکالے گئے۔ صرف دارالحکومت واشنگٹن میں ہونیوالے مظاہرے ہی میں ایک سے لے کر پانچ لاکھ تک مظاہرین شریک ہوئے اور یوں تین عشرے سے زیادہ عرصے پہلے ویت نام جنگ کے خلاف ہونےوالے مظاہروں یا پھر سیاہ فام امریکیوں کی جانب سے شہری حقوق کے لئے کئے جانے والے مظاہروں کے بعد سے یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

مظاہرین امریکی کانگریس سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تارکینِ وطن سے متعلقہ قانون میں اصلاحات کے تنازعے میں جلد کسی مناسب حل پر پہنچے۔ گذشتہ جمعے کے روز ڈیموکریٹ اور ری پبلکن اراکین کے درمیان ایک مفاہمتی دستاویز پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔

اِس دستاویز میں امریکہ میں کم از کم 5 برسوں سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو 6 سال کے اندر اندر امریکی شہریت دئے جانے کا ذکر کیا گیا ہے ، بشرطیکہ وہ انگریزی زبان سیکھ جائیں اور جرمانے کے ساتھ ساتھ گذشتہ تمام ٹیکس بھی ادا کر دیں۔ اِسی طرح وہ پروگرام بھی متنازعہ ہے ، جس میں سالانہ تین لاکھ غیر ملکی مہمان کارکنوں کو ملک میں قیام کا محدود اجازت نامہ دینے کا ذکر ہے۔

بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے ایک روز بعد ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے امیگریشن قانون کے جن دو ضوابط میں نرمی کرنے کا عندیہ دیا ہے ، اُن میں سے ایک کا تعلق امریکہ میں غیر قانونی طور پر آباد کئی ملین غیر ملکی باشندوں کو مجرم قرار دینے سے ہے جبکہ دوسرے میں اُن لوگوں کو سزا دینے کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے ، جو اِن غیر قانونی تارکینِ وطن کو انسانی امداد فراہم کریں گے۔