1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں صومالی قزاق کو سزا

امریکہ میں صومالیہ کے ایک شہری کو قزاقی کا الزام ثابت ہونے پر 30 برس کی سزائے قید کا حکم سنایا گیا ہے۔ اس پر صومالیہ کے ساحلی علاقے میں امریکی بحری بیڑے پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

default

قزاقی کے الزام میں عدالت میں پیش کئے گئے صومالی شہریوں کا ایک خاکہ

امریکی ریاست ورجینیا میں نورفوک کی ایک وفاقی عدالت نے یہ فیصلہ پیر کو سنایا۔ امریکی حکام کے مطابق صومالیہ کا شہری Jama Idle Ibrahim امریکی بحری بیڑے پر حملہ کرنے والے قزاقوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے دراصل جہازوں کو پہچاننے میں غلطی کی، ان کا خیال تھا کہ وہ تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنے والے ہیں۔

سزا پانے والے صومالیہ کے اس شہری نے ایک معاہدے کے تحت اعتراف جرم کیا ہے، جس کے تحت اسے قزاقی کے الزامات کا سامنا کرنے والے اپنے مزید پانچ ہم وطنوں کے خلاف گواہی کے لئے عدالت میں دوبارہ پیش کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں اس پر 2008ء میں ڈنمارک کے ایک جہاز پر حملہ کرنے کا الزام بھی ہے۔

ورجینیا کی اسی عدالت نے امریکی بحری بیڑے پر حملے میں ملوث ہونے پر گزشتہ ہفتے صومالیہ کے پانچ شہریوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ ان کے مقدمے کی آئندہ سماعت مارچ 2011ء کے لئے طے ہے، جس میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

یہ حملہ رواں برس دس اپریل کو کیا گیا تھا۔ امریکی اٹارنی نیل مکبرائڈ نے ایک بیان میں کہا، ’آج نورفوک کی کسی عدالت میں ڈیڑھ سو برس سے بھی زائد عرصے میں قزاقی کے کسی مقدمے سے متعلق پہلی مرتبہ سزا کا فیصلہ دیا گیا ہے۔’

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 November Somalia

قزاقوں نے امریکی بحری بیڑے پر فائرنگ کی، حکام

انہوں نے کہا، ’دنیا میں قزاقی کا خطرہ بتدریج بڑھ رہا ہے اور آج کے فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جدید دَور کے قزاقوں کو امریکی عدالتوں کے سامنے جواب دہ بنائے گا۔’

ابراہیم نے یہ اعتراف جرم اسی عدالت کے سامنے رواں برس اگست میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران کیا تھا۔ اس نے جہاز کے عملے پر حملے کا اعتراف بھی کیا تھا۔ اس نے تسلیم کیا تھا کہ اس حملے میں اس نے آتشی ہتھیار بھی استعمال کئے۔

قبل ازیں ایک جج نے ابراہیم اور اس کے پانچ ساتھیوں کے خلاف قزاقی کا الزام مسترد کر دیا تھا، جو ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا لازمی ہے۔ جج کا کہنا تھا کہ ان کے گروپ نے جہاز کو لُوٹا نہیں، نہ ہی وہ اس پر سوار ہوئے اور نہ انہوں نے جہاز کا کنٹرول سنبھالا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس