1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ میں سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے مسودہ قانون

امریکی کانگریس اس سال کے آخر تک عالمی حدت کو روکنے کے لئے ایک مسودہ قانون منظور کرے گی، یہ بات کانگریس کی سپیکرنینسی پولیزی نے سبزمکانی گیسوں کے مطلق ایک مسودہ قانون کی سماعت کے حوالے سے کہی۔

default

اوباما کییورپ آمد کے موقع پر ایک بینر جس پر صدر اوباما سے ماحول کے متعلق فوری اقدامات کا مطالبہ درج ہے

امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پولیزی نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا : ’’ہم اس سال اس بل کو پاس کردیں گے اوراگلے سال Earth Day کے موقع ہم اپنی اس کامیابی کا جشن منایں گے۔‘‘

امریکی کانگریس میں پیش کئے جانے والے ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے متعق اس بل کی منظوری سے سال 2020 تک کاربن گیس کے اخراج کو سال 2005 کے مقابلے میں 20 فیصد کم کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ سبزمکانی گیسوں کے اخراج میں سال 2030 تک قریب 42 فیصد کمی آئے گی۔

Bildgalerie USA Wahlen Obama Iran 2

اوباما موحولیاتی تبدیلوں کے حوالے سے اقدامات پر زور دیتے رہے ہیں

اس سلسلے میں ہاؤس انرجی اورکامرس کمیٹی ڈیموکریٹ چیرمین Henery Waxman کی سربراہی میں یہ بل کانگریس میں چار روزہ بحث کے لئے پیش کیا جائے گا۔ قانون ساز اس دوران EPA کی سربراہ لیسا جیکسن اور سابق امریکی صدارتی امیدوار ایلگور کی تجاویز اور رپورٹ بھی سنیں گے۔

اس بل کی منظوری کو تیل اورکوئلے کی پیداوار کے حوالے سے جانی جانے والی امریکی ریاستوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے، جن کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری سے انہیں معاشی بحران کا اندیشہ ہے۔ یہ خدشات بھی ظاہر کئے جارہے ہیں کہ اس بل کو کانگریس کے مقابلے میں سینیٹ میں زیادہ دشواری پیش آسکتی ہے جہاں رپبلیکن کے علاوہ اہم ڈیموکریٹ بھی اس کی مخالف ہیں۔

ڈیموکریٹ سینیٹر Evan Bayh نے اس بل کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ’’سب سے مشکل مرحلہ ترقی پذیر ملکوں کو ماحولیاتی تباہی کے خلاف لے کے چلنا ہے اور اگر ہم اس میں ناکام ہوتے ہیں تو یہ سب کرنا بلاوجہ ہو گا۔‘‘

امریکی صدر باراک اوباما کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ اوباما انتظامیہ امریکی صدر کی اقوام متحدہ میں رواں سال دسمبر میں ماحولیاتی تباہی کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے قبل اس بل کو منظور کروانا چاہتی ہے۔

DW.COM