1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں دہشت گردی کے الزام میں پاکستانی نژاد شہری گرفتار

امریکہ میں ایک پاکستانی نژاد شخص کو ان الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن میں انتہاپسند گروپ لشکرِ طیبہ کی مدد کی کوشش میں ملوث رہا ہے۔

default

امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ چوبیس سالہ جبیر احمد پر لشکر طیبہ کی مدد کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ تفتیش کاروں کے سامنے جھوٹا بیان دینے پر بھی مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

اس پر الزام ہے کہ اس نے لشکر طیبہ کو مادی مدد فراہم کی، جسے امریکہ نے دو ہزار ایک میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

جبیر نے دوہزار چار میں اس وقت لشکر طیبہ کے تربیتی کورس میں شرکت کی تھی، جب وہ محض ایک ٹین ایجر تھا۔ وہ اس تنظیم کے کمانڈو کورس میں بھی شریک ہوا۔ شکایت گزار کا کہنا ہے کہ کمانڈو کورس میں اس نے صرف ایک ہفتے کے لیے ہی شرکت کی تھی کیونکہ اس کے انسٹرکٹر نے اسے کم عمر قرار دے دیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ اس نے گزشتہ برس ستمبر میں ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر لشکر طیبہ کی حمایت میں ایک پراپیگنڈا ویڈیو جاری کی تھی۔

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008

لشکر طیبہ کو ممبئی حملوں کی ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے

استغاثہ کے مطابق اس مقصد کے لیے جبیر نے لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کے بیٹے سے رابطہ کیا تھا جبکہ اس ویڈیو میں حافظ سعید کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے گزشتہ ماہ اس ویڈیو کے بارے میں جبیر سے بات کی تو اس نے کہا کہ اس نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

اسے ابتدائی طور پر ورجینیا کے علاقے الیگزینڈریا کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے اسے ابتدائی اور قید میں رکھنے کی سماعت تک کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ یہ سماعت آئندہ ہفتے بدھ کو ہو گی۔

جبیر احمد اپنے خاندان کے ساتھ دو ہزار سات میں امریکہ جا بسا تھا۔ ایف بی آئی نے دو ہزار نو میں یہ معلومات ملنے پر اس کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا کہ اس کا لشکر طیبہ کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے۔ اسے امریکہ کی مستقل شہریت حاصل ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM