1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ میں بے روزگاری کے معیشت پر اثرات

گزشتہ ماہ جولائی کے دوران امریکہ میں ایک لاکھ 31 ہزار نوکریوں کے مزید مواقع ختم ہوئے۔ پرائیویٹ سیکٹر نے ستر ہزار اسامیوں کا اعلان بھی کیا لیکن صورت حال میں بہتری کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہے۔

default

امریکی وزارتِ محنت کی طرف سے بے روزگاری اور نوکریوں میں کمی کے بارے میں اعداد و شمار کی تفصیلات عام ہونے کے بعد اسٹاک مارکیٹوں میں مندی چھا گئی۔ ایک لاکھ 31 ہزار روزگار کے مستقل مواقع ختم ہونے کی خبر نے بحال ہوتی امریکی اقتصادیات پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

امریکی وزارتِ محنت کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کی جانب سے 70 ہزار سے زائد نوکریوں کی فراہمی سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا اور یہ شرح بدستور ساڑھے نو فیصد پر قائم ہے۔ جولائی ہی میں ایک لاکھ 43 ہزار عارضی یا جز وقتی روز گار کی اسامیاں ختم ہوئیں۔

Demonstration gegen Arbeitslosigkeit undGeorge Bush in New York

امریکہ میں بے روزگار افراد مظاہرہ کرتے ہوئے

رواں سال کے ماہ جولائی میں سوا لاکھ سے زائد نوکریوں کو ختم کئے جانے کی رپورٹ نے امریکی مالی منڈیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اسٹاک مارکیٹوں میں ہونے والی کاروباری سرگرمیوں میں مندی کا رجحان غالب ہو گیا اور کئی سودوں میں خاصا نقصان دیکھا گیا۔ ڈاؤ جونز میں ٹریڈنگ میں ایک فی صد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ بعدازاں مندی کی صورت حال بہتر ضرور ہوئی لیکن کاروباری حضرات کے اعتماد کو جو ٹھیس پہنچی وہ بحال نہیں ہو سکی۔

امریکی مالی منڈیوں کی مندی کی بازگشت یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی دیکھی گئی۔ لندن، پیرس اور فرینکفرٹ میں حصص کی قیمتوں میں کمی کا رجحان واضح طور پر سامنے آیا۔

روزگار کی صورت حال پر ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی اقتصادیات بدستور سست روی سے آگے ضرور بڑھ رہی ہے اور اس سے معاشی استحکام کی صورت ابھر تو رہی ہیں لیکن اس کو شاندار نہیں کہا جا سکتا۔ دوسری سہ ماہی کے دوران امریکہ کی شرح پیداوار میں تیزی پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ رفتار پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم تھی۔

Symbolbild Finanzkrise in den USA, Arbeitslosigkeit

بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح سے امریکی اقتصادیات بھی متاثر ہو رہی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پرائیویٹ کاروباری ادارے کمزور اور عدم اعتماد کا شکار ہیں اور وہ پھونک پھونک کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ امریکہ کے صنعتی پیداواری کارخانوں میں جولائی کے دوران 36 ہزار پروفیشنلز کو دوبارہ نوکریاں دی گئی ہیں۔

اس مناسبت سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نوکریاں دینے کی موجودہ رفتار انتہائی سست ہے اور کساد بازاری کے سالوں میں اسی لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ اس رفتار سے تو فارغ کئے گئے افراد اگلے پانچ سالوں میں بھی نوکریوں پر بحال نہیں ہو سکیں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس