1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں بگولے، جھکڑ اور طوفانی موسم، 200 افراد ہلاک

امریکہ میں بدھ کے روز طوفانی بگولوں نے بڑی تعداد میں گھروں کوملیا میٹ کردیا ہے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ اس شدید موسم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کرگئی ہے۔

default

امریکی حکام کے مطابق 131افراد تو صرف ریاست الاباما میں ہی ہلاک ہوئے۔ صدر باراک اوباما نے اس شمال مشرقی ریاست میں ہنگامی تلاش اور امدادی آپریشن کا حکم دیا ہے۔ الاباما کے گورنر رابرٹ بینٹلے کے بقول دس لاکھ سے زائد لوگ اس ریاست میں بجلی سے محروم ہیں۔

شدید موسم کی زد میں آنے والی ریاستوں میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ان میں الاباما، آرکنساس، کینٹکی، مسیسپی، میسوری، ٹینیسی اور اوکلاہوما شامل ہیں۔ ان ریاستوں کے گورنرز نے نیشنل گارڈز سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی کام میں تعاون کریں۔

امریکی محکمہ موسمیات (NSA) کے مطابق بدھ کی دوپہر 12 بجے سے جمعرات کی صبح دو بجے تک 110 سے زائد بگولوں اور طوفانی جھکڑوں نے ملک کی مرکزی اور شمالی ریاستوں میں تباہی مچائی۔ نیشنل ویدر سروس نے الاباما، جورجیا، اور مسیسپی ریاستوں کے بعض علاقوں میں انتہائی خطرناک بگولوں، بجلی کڑکنے، اچانک سیلاب اور اولے پڑنے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ NSA کے مطابق ملک کی 21 ریاستیں شدید موسم کی زد میں آسکتی ہیں۔

بگولوں اور طوفانی جھکڑوں نے امریکہ کی مرکزی اور شمالی ریاستوں میں تباہی مچائی

بگولوں اور طوفانی جھکڑوں نے امریکہ کی مرکزی اور شمالی ریاستوں میں تباہی مچائی

الاباما کے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے ادارے ’ایمرجنسی منیجمنٹ ایجنسی‘ (EMA) کی ایک ترجمان یاسمین اگست کے مطابق طوفانی ہواؤں اور جھکڑوں سے سب سے زیادہ ریاست الاباما متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بگولوں سے متاثر ہونے والے مختلف شہروں میں ہنگامی امداد کے علاوہ اس سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ یاسمین کے مطابق ٹسکالوسا نامی شہر میں EMA کا مرکز بھی متاثر ہونے والی عمارتوں میں شامل ہے۔ ٹسکالوسا کے میئر والٹر ماڈوکس کے مطابق بگولے نے کئی رہائشی عمارتوں کے کئی بلاکس کو تباہ کردیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ریاست مسیسپی میں 32 افراد، ٹینیسی میں 15، جارجیا میں 13، آرکنساس میں 11، جبکہ ورجینیا میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ حکام نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شدید ہواؤں کے دوران گاڑی میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: کِشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس