1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

امریکہ میں بکنے والے گوشت میں مضر صحت بیکٹیریا

ایک نئی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پانچ مختلف شہروں میں فروخت ہونے والے گوشت میں ایسے بیکٹیریا کی موجودگی پائی گئی ہے، جو اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔

default

مارکیٹ میں فروخت ہونے والے گوشت میں موجود بیکٹیریا Staphylococcus aureus کمزور دل کے مالک افراد میں جلد کی بیماریوں کے علاوہ نمونیہ ، بلڈ پریشر اور دل کی ہی مختلف عارضوں کا باعث بن سکتا ہے۔ جمعہ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق یہ بیکٹیریا گوشت کے 47 فیصد نمونوں میں موجود تھا۔

Clinical Infectious Diseases نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بیکٹیریا کم ازکم تین طرح کی اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف اچھی خاصی مزاحمت کا حامل پایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیکٹیریا گوشت کے اندر موجود تھا، اس لیے ایسے تمام مفروضات غلط ثابت ہو گئے ہیں کہ یہ جرثومے ٹرانسپورٹیشن کے دوران گوشت میں داخل ہو جاتے ہوں گے۔

گائے، سؤر اور مرغی کے گوشت موجود اس بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

گائے، سؤر اور مرغی کے گوشت موجود اس بیکٹیریا کی موجودگی کی تصدیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

جن امریکی شہروں سے اس گوشت کے نمونے لیے گئے تھے، ان میں دارالحکومت واشنگٹن کے علاوہ ریاست فلوریڈا کا شہر فورٹ لاڈرڈیل، لاس اینجلس اور شکاگو بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان شہروں کی 26 سپر مارکیٹوں سے 80 مختلف کمپنیوں کی طرف سے فروخت کیے جانے والے گوشت کے کل 136 نمونے لیے گئے تھے۔

زیادہ تر ایسے بیکٹیریا گوشت پکانے کے دوران مر جاتے ہیں تاہم ان کے پھیلنے کی امکانات کو پھر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بیکٹیریا ہاتھوں کے ذریعے دیگر برتنوں تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں یا پھر اگر گوشت کو اچھے طریقے سے نہ پکایا جائے تو بھی یہ جرثومے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے خالق سینئر ڈاکٹر لانس پرائس کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ وہ پولٹری یا گوشت جو ہماری روزمرہ خوراک کا ایک حصہ ہے، اس طرح آلودہ بھی ہو سکتے ہیں۔ S. aureus نامی بیکٹیریا ان دیگر چار قسموں کے بیکٹیریا میں شامل نہیں ہے، جن کے بارے میں امریکی محکمہ صحت باقاعدگی سے ٹیسٹ کرتا رہتا ہے کہ وہ پولٹری یا گوشت میں پائے جاتے ہیں یا نہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں ہرسال قریب دو ملین افراد ایسے ہی بیکٹیریا سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے بیکٹیریا بچوں، بزرگوں یا ایسے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں، جن کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس