1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

امریکہ میں ایک بلین ڈالر سے زائد کا پینشن فراڈ

امریکی شہر نیو یارک میں ایک بلین ڈالر سے زائد کے پینشن فراڈ کے سلسلے میں گیارہ ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ یہ فراڈ ملکی تاریخ میں مالیاتی دھوکہ دہی کے بہت بڑے واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

default

نیو یارک سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق شہر میں دفتر استغاثہ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں جن ملزمان کے خلاف باقاعدہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ ناقابل یقین حد تک زیادہ بدعنوانی اور غبن کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عملی زندگی سے ریٹائر ہو جانے والے ایسے بہت سے کارکن جسمانی طور پر معذور افراد کو ملنے والی سہولیات اور فوائد حاصل کرتے رہے جو بالکل صحت مند تھے اور گولف کھیلنے کے علاوہ باقاعدگی سے فٹنس کلبوں میں بھی جاتے تھے۔

Krankenhaus in Vietnam

اس واقعے میں ملزمان کے خلاف ستائیس اکتوبر کو عائد کی جانے والی فرد جرم میں دفتر استغاثہ کی طرف سے کہا گیا کہ یہ افراد ایک ایسے وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ تھے جس میں لانگ آئی لینڈ ریل روڈ یا LIRR نامی کمپنی کے سابقہ ملازمین نے اس ادارے اور پینشن فنڈ کو بے تحاشا نقصان پہنچایا۔

یہ فراڈ ایک ایسی سکیم کی صورت میں کیا گیا جس میں اس کمپنی کے اب سابقہ ملازمین نے اپنے کام کے قابل نہ رہنے کا بہانہ بنا کر اس لیے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی کہ بعد میں ان کی پینشن کی رقوم میں سالانہ ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہو سکے۔

جن ملزمان پر باقاعدہ عدالتی الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان میں دو ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ ان ڈاکٹروں نے ’معذور قرار دیے جانے کے خواہش مند‘ بہت سے کارکنوں کو ایسے جعلی طبی سرٹیفیکیٹ جاری کیے جنہوں نے یہ ثابت کرتے ہوئے وقت سے بہت پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی تھی کہ وہ کام کے قابل نہیں رہے۔

Deutschland Gesundheit Pflege Prüfbericht Flash-Galerie

دفتر استغاثہ کے مطابق یہ فراڈ ایک بڑا مالیاتی جرم ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر ناقابل فہم بھی ہے۔ اس لیے کہ اس طرح دھوکہ دہی کرنے والے کارکنوں اور ان کے لیے اس جرم کو ممکن بنانے والوں نے حقیقی طور پر معذوری کے شکار بزرگ شہریوں کی حق تلفی کی۔ طویل عرصے تک اس دھوکہ دہی کے دوران جن مالی اور سماجی فوائد کا غلط استعمال کیا گیا، وہ ریل روڈ ریٹائرمنٹ بورڈ RRB کی طرف سے معذور ہو جانے والے سابق کارکنوں کے سماجی اور مالی تحفط کے لیے مہیا کیے جاتے تھے۔

گیارہ ملزمان میں سے جن دو ڈاکٹروں کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے، وہ جعلی میڈیکل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لیے فی کارکن ایک ہزار ڈالر تک وصول کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے ان کارکنوں کے نام نہاد علاج کی مد میں بھی کئی ملین ڈالر بٹورے۔ ایک بلین ڈالر سے زائد کے اس فراڈ میں ہر ملزم کو بیس برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس