1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج مزید وسیع

امریکہ میں سامنے آنے والے ایک تازہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ وہاں امیر اور غریب طبقے کے درمیان خلیج اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے، جتنی کہ پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔

default

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک EPI ’اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اِس طرح کا جائزہ مرتب کرنے کا سلسلہ 1962ء سے شروع ہوا تھا اور تب سے لے اب تک امیر اور غریب امریکیوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق نہیں دیکھا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ایک فیصد امیر ترین شہری ننانوے فیصد اوسط امریکی گھرانوں کے مقابلے میں 225 گنا زیادہ دولت کے مالک ہیں۔ اِس سے پہلے سن 2007ء میں کئے جانے والے اِس طرح کے آخری سروے سے پتہ چلا تھا کہ ایک فیصد امیر ترین امریکی شہریوں کے پاس اوسط امریکی گھرانوں کے مقابلے میں 181 گنا زیادہ دولت ہے جبکہ ساٹھ کے عشرے میں یہ تناسب ابھی 125 گنا تھا۔

حالیہ برسوں میں جو عالمگیر کساد بازاری دیکھنے میں آئی ہے، اُس کا اثر امریکہ کے دولت مند طبقے پر بھی ہوا۔ 2009ء میں ایک فیصد امیر ترین شہری اوسطاً 14 ملین ڈالر کے مالک تھے اور یہ رقم 2007ء کے مقابلے میں 27 فیصد کم تھی۔

USA Finanzkrise New York Börse Wall Street Straßenschild

عالمی معاشی بحران نے امریکہ کے امراء کو بھی متاثر کیا

تاہم اوسط امریکی گھرانوں پر اِس عالمگیر اقتصادی بحران نے زیادہ شدید اثرات مرتب کئے۔ 2009ء میں اُن کے مالی اثاثے 62 ہزار ڈالر ریکارڈ کئے گئے، جو 2007ء کے مقابلے میں 41 فیصد کم تھے۔ یہ تھنک ٹینک اثاثوں کا حساب لگاتے وقت مکان کی ملکیت کو بھی شامل کرتا ہے۔ جائیداد کی قیمتوں میں کمی کے اثرات امیر طبقے کے بجائے عام امریکی گھرانوں کے لئےکہیں زیادہ شدید رہے۔

اِس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی آبادی کے نچلے بیس فیصد حصے کے ہاں 1979ء اور 2005ء کے درمیان آمدنی میں افراطِ زر کو منہا کر کے مجموعی طور پر 200 ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اِن چھبیس برسوں کے دوران امریکہ کے متوسط طبقے کی آمدنی میں نو ہزار ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انتہائی امیر 0.1 فیصد امریکی آبادی کی آمدنی میں اِسی عرصے کے دوران تقریباًچھ ملین ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ: امجد علی/خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM