1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ میں اقتصادی ترقی کی امید

امريکہ ميں ان دنوں يہ پراميدی پائی جاتی ہے کہ ملک کی گرتی ہوئی اقتصاديت اب سنبھالا لے سکے گی۔ مختلف شعبوں کے اعداد و شمار کی بنياد پر ماہرين بھی کچھ پراميد نظر آتے ہيں۔

default

امريکی صدر بارک اوباما نے اپنی سال کی اختتامی پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ دنيا کی سب سے بڑی معيشت امريکہ بحران کے نقطہء عروج کو عبور کر چکی ہے۔ پريس کانفرنس کے اگلے روز صارفين کے پيسہ خرچ کرنے کے رجحان، افراط زر اور بے روزگاری کی شرح سے اس بيان کی تصديق ہوتی نظر آتی تھی۔

ليکن اُن سے يہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی امريکی معيشت کو بہت کچھ بہتر ہونا ہے۔ پورے سال کے اعدادوشمار يہ ظاہر کرتے ہيں کہ امريکہ ميں سماجی مالی امداد کے لئے سرکاری دفاتر کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد چار سے پانچ لاکھ کے درميان رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی شرح خاصی زيادہ ہے۔

ليکن پچھلے ہفتے بےروزگاری الاؤنس کے لئے درخواستیں جمع کرانے والوں کی تعداد چار لاکھ دس ہزار تھی اور اس سے ماہرين کو يہ اميد ہے کہ سن 2011 ميں امريکی معيشت بہتر ہوگی۔ Barclays Capital نامی ادارے کے نکولاس ٹينيو کے مطابق روزگار کی منڈی میں بہتری کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور جو شہری برسرروزگار ہيں، وہ زيادہ پيسہ خرچ کر رہے ہيں۔

Barack Obama

امريکی صدر بارک اوباما

اختتام ہفتہ پر امريکی محکمہء تجارت نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ نومبر ميں صارفين نے 43.3 بلین ڈالر زيادہ خرچ کئے اور يہ صارفین کی طرف سے تواتر کے ساتھ زيادہ رقوم خرچ کرنے کا پانچواں مہينہ تھا۔ يہ اضافہ تنخواہوں ميں اضافے کے ساتھ ہی ديکھنے ميں آرہا ہے۔

امريکہ ميں ماہرين اقتصاديت صارفين کے پیسہ صرف کرنے کے اعداد و شمار کا بہت قريب سے جائزہ ليتے رہتے ہيں، جو کہ قومی پيداوار کا تقريباً 70 فيصد ہے۔ زيادہ پيسہ صرف کرنے کی وجوہات تنخواہوں ميں اضافے کے علاوہ پرچون فروشوں کی طرف سے اشياء کی قيمتوں ميں کمی، روزگار کی منڈی میں نسبتاً بہتری اور اسٹاک ايکسچينج کی مارکيٹ کی بہتر صورتحال ہے۔

امريکہ کا صنعتی پيداواری شعبہ اقتصادی بحالی ميں سب سے زيادہ نماياں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم مکانات اور جائیداد کی منڈی، جو اقتصادی بحران کی سب سے بڑی وجہ تھی، اب بھی مشکلات سے دوچار ہے۔ اکتوبر ميں مکانات کی فروخت کی شرح جنوری سن 1963 ميں اس شعبے ميں اعداد و شمار جمع کرنے کے آغاز کے بعد سے لے کر اب تک سب سے کم رہی۔

مکانات کے لئے بينک قرضوں کی انتہائی کم شرح اور کم قيمت مکانات کی بڑی تعداد کے باوجود خريدار اس طرف راغب نہيں ہو رہے۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ مکانات اور جائیداد کی امريکی منڈی ابھی اپنے پست ترين مرحلے سے نکل نہيں پائی ہے۔ تاہم اس سے بہت اميديں وابستہ کی جا رہی ہيں کہ دوسرے شعبے آگے بڑھ سکيں گے اور ٹيکسوں ميں کمی اور فيڈرل ريزرو کے منڈيوں ميں 600 ارب ڈالر جھونکنے سے اقتصاديت مکمل طور پر صحتمند ہو جائے گی۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت:‍ مقبول ملک

DW.COM