1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ : مسلمانوں میں انتہا پسندی سے متعلق کانگریس کی متنازعہ سماعت

امریکہ کے واحد مسلمان رکن کانگریس کیتھ ایلیسن نے کہا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی کا جائزہ لینے سے متعلق ایوان کی کارروائی میں حصہ لیں گے۔ اس سماعت کے خلاف گزشتہ روز نیویارک میں سینکڑوں امریکی شہریوں نے پر امن احتجاج کیا۔

default

امریکہ کے مسلمان حلقے کانگریس میں رواں ماہ کے لیے شیڈیول اس معاملے کی سماعت کو ’اسلامو فوبیا‘ کا نام دے رہے ہیں۔ کیتھ ایلیسن نے کہا ہے کہ وہ ایوان نمائندگان میں داخلی سلامتی سے متعلق کمیٹی میں پیش ہوں گے اور اس سماعت کی بنیادی حیثیت کو چیلنج کریں گے۔

ایلیسن نے کانگریس کی جانب سے ملک میں انتہائی پسندی کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محض اسلام کو نشانہ بنانا ایسا ہی ہے جیسا کسی منظم جرم کی تحقیقات کے سلسلے میں روسی برادری کی بات کرنا یا آئرش گروہوں پر توجہ مرکوز رکھنا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا، ’میرے خیال میں اس میں کوئی منطق نہیں کہ ایسے گروہ پر توجہ مرکوز کردی جائے، جو پہلے ہی مختلف پیمانے کے امتیازی سلوک کا نشانہ ہے‘۔

New York - pro-Moslem-Demonstration NO FLASH

مظاہرے کا ایک منظر

جاپانی نژاد امریکی سیاست دان مائیک ہونڈا نے بھی اس مجوزہ سماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول آبادی کے اتنے بڑے حصے کو اس طرح شک کی نظر سے دیکھنے کے وسیع تر نقصانات ہوسکتے ہیں۔

اس سماعت کا آغاز جمعرات کو ہوگا۔ سماعت کرنے والے پینل کی سربراہی کرنے والے ری پبلکن سیاست دان پیٹر کنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مسلمان برادری کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ امریکی حکام دہشت گردی کے شبے پر درجنوں مسلمان امریکی شہریوں کو گرفتار کرچکے ہیں۔

دوسری جانب نیویارک میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع نے بھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ اس پر امن احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کی اکثریت امریکی مسلمانوں پر مشتمل تھی، جنہوں نے انتہا پسندی سے نفرت اور اپنے ملک ’امریکہ‘ سے محبت کا مظاہرہ کیا۔

نیویارک کے اسلامک کلچر سینٹر کے سربراہ امام شمسی علی نے اجتماع سے خطاب میں کہا، ’ میں ایک مسلمان ہوں اور اس ملک سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنا ایک مسیحی یا یہودی کرتا ہے‘۔ اس احتجاجی مظاہرے کے آغاز پر پاکستانی نژاد 17 سالہ طالبہ انعم چوہدری نے امریکی قومی ترانہ گایا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM