1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ عسکری موجودگی کم کرے، پاکستانی فوج

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں فوجیوں کی تعداد کم سے کم کرے۔ فوج نے خبردار کیا ہے کہ ایبٹ آباد حملے کی طرز پر آئندہ کوئی کارروائی ہوئی تو امریکہ کے ساتھ تعاون کا ’جائزہ‘ لیا جا سکتا ہے۔

default

پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی

پاکستانی فوج نے ایک اعلامیے میں تسلیم کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ چلانے میں انٹیلی جنس ناکام رہی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تفتیش کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کورکمانڈروں کو پاکستان میں امریکی عسکری عملے کی تعداد کم کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق جنرل کیانی نے یہ واضح کیا ہے کہ آئندہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی تو امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس کی شعبے میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستان میں امریکی عسکری عملے کی تعداد واضح نہیں ہے۔ امریکی اسپیشل آپریشنز فوجیوں کی وہاں موجودگی کا پتہ 2010ء کے ایک خودکش حملے کے بعد چلا تھا۔ اس حملے میں تین امریکی ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس وقت حکام نے پاکستان میں دو سو امریکی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

گزشتہ ماہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی تھی کہ سی آئی اے اور اسپیشل آپریشنز فورسز کے اہلکاروں سمیت تین سو پینتیس امریکیوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ یہ فیصلہ سی آئی اے کے کانٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے تناظر میں سامنے آیا۔

Pakistans Außenminister Salman Bashir

پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر

جنرل کیانی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا ہے، ’یہ کہنا آسان ہے کہ آئی ایس آئی یا حکومتی عناصر القاعدہ کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔’

سلمان بشیر نے کہا کہ ایسی قیاس آرائی جھوٹ پر مبنی اور محض الزام ہے۔ قبل ازیں پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ سمیت پوری دنیا اسامہ کے ٹھکانے کا پتہ لگانے میں ناکامی کی ذمہ دار ہے۔ دورہ فرانس کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دنیا کی معاونت درکار ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا، 'ہم دہشت گردی اور انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے لڑ رہے ہیں اور اس کی بھاری قیمت چُکا رہے ہیں۔ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس