1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ سے 10 روسی جاسوس ماسکو روانہ

ان جاسوسوں کے بدلے روس بھی ملک میں قید چار مبینہ مغربی ایجنٹوں کو رہا کر رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد سے اب تک ہونے والے جاسوسوں کے اس تبادلے کو حیرت انگیز قرار دیا جارہا ہے۔

default

ملک بدر کئے جانے والے دس روسی جاسوس نام بدل کر امریکہ میں لمبے عرصے سے رہائش پزیر تھے۔ کریملن کے ان ایجنٹوں کو عدالتی پیشی کے فوراﹰ بعد بذریعہ جہاز ماسکو بھیج دیا گیا۔

امریکہ اور روس کے درمیان جاسوسی کا ہنگامہ خیز سکینڈل جاسوسوں کے اس تبادلے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے جمعرات کو بتایا گیا کہ امریکہ میں دَس روسی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد دو ہفتے سے بھی کم مدت کے اندر اندر دونوں ممالک کی حکومتیں اِس مسئلے کے حل پر متفق ہو گئی ہیں۔

Spionageaffäre USA Russland Flash-Galerie

روسی جاسوسوں ایک امریکی عدالت میں پیشی کے فوراﹰ بعد بذریعہ جہاز ماسکو بھیج دیا گیا۔

ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان قیدیوں کے اِس تبادلے کی راہ ہموار کرنے کے لئے امریکہ میں گرفتار شُدہ جاسوسوں نے نیویارک کی ایک عدالت میں یہ اعتراف کر لیا کہ وہ امریکہ میں روس کے لئے جاسوسی میں مصروف تھے۔ اِس پر عدالت نے اُنہیں کوئی سزا دینے کی بجائے یہ احکامات جاری کئے کہ اُنہیں فوری طور پر ملک سے نکال دیا جائے۔ عدالت نے ان افراد پر ہمیشہ کے لئے امریکہ واپسی پر پابندی بھی عائد کی ہے۔ اِس حکم کا اطلاق پیرُو سے تعلق رکھنے والی خاتون وکی پیلیز پر بھی ہو گا، جس کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔

USA Russland Agentenaustausch Vicky Pelaez Spion aus Peru

ملک بدر کئے جانے والے تمام افراد پر دوبارہ امریکہ داخلے پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ اِس حکم کا اطلاق پیرُو سے تعلق رکھنے والی خاتون وکی پیلیز پر بھی ہو گا، جس کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔

جاسوسی کے الزام میں اِن افراد کو پانچ سال تک کی سزائے قید ہو سکتی تھی تاہم استغاثہ کے وکلاء نے اِن افراد کو کالے دھن کو جائز آمدنی میں بدلنے کی سازش کا بھی قصوروار قرار دیا تھا، جس کے لئے سزائے قید کی مدت بیس سال تک ہے۔

امریکہ میں گرفتار ہونے والے جاسوسوں کا تعلق ایک ایسے گیارہ رُکنی گروہ سے تھا، جو نوے کے عشرے سے روس کے لئے امریکہ میں جاسوسی کر رہا تھا۔ دَس مردوں اور خواتین کو ایک ہفتہ قبل نیویارک، بوسٹن اور ورجینیا سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک اور مرد قبرص میں پکڑا گیا لیکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایجنٹوں کے اِس فوری تبادلے کا جواز بتاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ 'قومی سلامتی‘ اور 'انسانی پہلوؤں‘ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اس تبادلے کی صورت میں روس میں قید اُن چار افراد کی رہائی ممکن ہو سکے گی، جنہیں مغربی دُنیا کے لئے جاسوسی کرنے کی پاداش میں سزا ہو چکی ہے اور جو قید کی طویل سزائیں بھگت رہے ہیں۔ ٹونر نے کہا کہ اِن میں سے چند ایک کی صحت بھی اچھی نہیں ہے۔

ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ ایجنٹوں کا یہ تبادلہ امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دیمتری میدویدیف کے درمیان پائے جانے والے گہرے اعتماد کی وجہ سے عمل میں آ رہا ہے۔

رپورٹ : امجدعلی / افسر اعوان

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM