1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ ۔ سعودی عرب اسلحہ ڈیل: محرکات کیا ہیں؟

امریکہ اور سعودی عرب کے مابین ساٹھ بلین ڈالر مالیت کی اسلحہ ڈیل کو خطے میں ایران کے مقابلے میں اپنے حلیف کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

default

واشنگٹن اور ریاض حکومتوں کے مابین اس ڈیل کا مقصد سعودی عسکری طاقت کو مضبوط بنانا ہے

بدھ کو واشنگٹن نےاعلان کیا تھا کہ وہ اسلحے کی اس تاریخی ڈیل کے تحت سعودی عرب کو جدید اسلحے سے آراستہ کرے گا۔ اس مجوزہ ڈیل کے تحت امریکی حکومت سعودی عرب کو چوراسی F-15 فائٹر جیٹ، ستّر اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر، بہتر بلیک ہاؤک ہیلی کاپٹراور ہلکی نوعیت کے چھتیس ہیلی کاپٹرمہیا کرے گی۔ ساٹھ بلین ڈالرکی یہ ڈیل امریکی تاریخ میں سب سے بڑی اسلحہ ڈیل قراردی جا رہی ہے۔

امریکہ میں سیاسی وعسکری امور کے نائب سیکریٹری اینڈریو شاپریو نے بتایا کہ اس ڈیل کے تحت سعودی عرب کے پاس پہلے سے موجود ستر F-15 فائٹرجیٹ طیاروں کو جدید خطوط پر بھی استوار کیا جائے گا تاہم یہ ڈیل مجموعی طور پر ساٹھ بلین ڈالر سے تجاوز نہیں کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے اس ڈیل سے کانگریس کو آگاہ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی کانگریس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ڈیل میں ترمیم یا اسے مؤخر کرے۔ اس ڈیل کے تحت پندرہ سے بیس سال کے عرصے کے دوران سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کیا جائے گا۔ شاپریو نے کہا،’ اس ڈیل کے ذریعے خطے کے دیگر ممالک کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن حکومت علاقائی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اپنے اہم پارٹنر کو تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

Apache Longbow

اس اسلحہ ڈیل میں جنگی ہیلی کاپٹروں کی فروخت نمایاں ہے

اگرچہ عالمی سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب کے مابین طے ہونے والی اس اسلحہ ڈیل کی اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ اس خطے میں ایران کے مقابلے میں اپنے حلیف ملک کی عسکری طاقت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تاہم شاپریو نے بتایا کہ اس اسلحہ ڈیل کی یہ واحد وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی مدد سے خلیج میں کئی دیگر ممالک کے ممکنہ خطرات کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نےعالمی مبصرین کا حوالہ دیتے ہوئےکہا ہےکہ ہے کہ اس ڈیل کے نتیجے میں علاقائی سطح پر اسلحے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں امن کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات