1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ، جنوبی کوریا کے ساتھ ہے: کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عالمی برداری سے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جارحانہ اور طیش دلانے والے اقدامات کی مذمت کرے اور اس حوالے سے مناسب حکمت عملی اختیار کرے۔

default

اپنے دورہء سیول کے دوران ہلیری کلنٹن نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ صدر لی میونگ باک سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کے ہمراہ سیول میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا: ’’شمالی کوریا کی طرف سے اشتعال انگیزی کا یہ ایک ناقابل قبول عمل تھا اورعالمی برداری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر اپنے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کرے۔‘‘

ہلیری کلنٹن نے سیول حکومت کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لئے خصوصی طور پرجنوبی کوریا کا دورہ کیا۔ انہوں نے جنوبی کوریائی صدر سے ملاقات کے بعد کہا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ اپنے دیرینہ دوست ملک کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے شمالی کوریا کو خبردار کیا کہ وہ ہمسایہ ملک کے ساتھ جارحانہ اور طیش دلانے والا سلوک ختم کردے۔

NO FLASH Hillary Clinton in Korea

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران

امریکی وزیرخارجہ نے سیول کی جانب سے پیونگ یانگ پر پابندیوں کے فیصلے کی بھی تائید کی،’’صدر لی نے اپنی تقریر میں جن اقدامات کا ذکر کیا ہے، وہ بالکل جائز ہیں اور امریکہ ان کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔‘‘

اس وقت جنوبی کوریا میں کوئی 28 ہزار پانچ سو امریکی فوجی تعینات ہیں اور یہاں کئی اہم امریکی فوجی اڈے بھی قائم ہیں۔ تاہم کلنٹن نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ خطرناک صورتحال کے پیش نظر واشنگٹن حکومت وہاں اپنے فوجی بڑھانے پر غور کر سکتی ہے، ’’امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج نے مشترکہ طور پر مشقیں کرنے کا اعلان کیا ہے اور ہم مل کر جزیرہ نما کوریا میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں ایسا کوئی حملہ نہ ہو۔‘‘

جنوبی کوریا کے انضمام کی وزارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو بحری جہاز تباہ کرنے پر معافی مانگنی چاہئے اور ذمہ دار افراد کو سزا دینی چاہئے۔ چین کے دور روزہ دورے کے بعد کلنٹن بدھ کو جنوبی کوریا پہنچی۔ انہوں نے چین سے بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالےتاکہ جزیرہ نما کوریا میں امن کی صورتحال برقرار رہے۔

دوسری طرف جنوبی کوریا کی طرف سے شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد پیونگ یانگ نے سیول کے ساتھ تمام تر رابطے منقطع کر نے کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک غیر جانبدارنہ کمیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 26 مارچ کو اچانک تباہ ہو کر ڈوب جانے والاجنوبی کوریائی بحری جہاز، دراصل شمالی کوریا نے تباہ کیا تھا۔ پیونگ یانگ حکومت ایسے تمام تر الزامات مسترد کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے جزیر نما کوریا میں ایک مرتبہ پھرکشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور روایتی حریف ممالک ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات