1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

امریکہ جلد ہی ’خود کُش‘ ڈرون استعمال کرے گا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی امریکی فوج کو ایسے ’خود کُش‘ ڈرون طیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے، جو خاموشی سے آسمان پر اڑتے ہوئے اچانک غوطہ لگائیں گے اور جا کر اپنے انسانی ہدف سے ٹکرا کر تباہ ہو جائیں گے۔

default

’سوئچ بلیڈ‘ کہلانے والے ان ڈرون طیاروں کو مشتبہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر زیادہ مؤثر طریقے سے قابو پانے کے لیے امریکہ کا نیا ہتھیار قراردیا جا رہا ہے۔ اِن روبوٹک طیاروں کا وزن دو کلوگرام سے بھی کم ہو گا۔ اِن کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ اِنہیں آسانی سے کسی فوجی کی کمر پر لٹکےتھیلے میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

یہ ڈرون طیارے کیلیفورنیا میں قائم AeroVironment نامی ادارے نے تیار کیے ہیں۔ ادارے نے گزشتہ مہینے ایک پریس ریلیز میں بتایا تھا کہ ان ڈرونز کو ایک ٹیوب کے اندر سے چھوڑا جائے گا اور جیسے ہی یہ باہر کھلی فضا میں آئیں گے، اِن کے اندر چُھپے ہوئے پَر باہر آ جائیں گے اور یہ کسی عام ڈرون کی طرح اڑنا شروع کر دیں گے۔

ان ڈرونز کے اندر ایک چھوٹا سا انجن نصب ہو گا اور یہ خود پر نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے اپنے سامنے، نیچے اور اردگرد کی لمحہ بہ لمحہ تصاویر اُس مرکز تک پہنچا سکیں گے، جہاں سے اِنہیں چھوڑا گیا ہو گا۔

ڈرونز کو فضا میں مخصوص گیسوں کی پیمائش وغیرہ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے

ڈرونز کو فضا میں مخصوص گیسوں کی پیمائش وغیرہ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے

اگر کسی فوجی نے انفرادی طور پر یہ ڈرون ’فائر‘ کیے ہوں گے تو وہ اِن ویڈیو تصاویر کی مدد سے آسانی سے اپنے ’دشمن‘ کو شناخت کر سکے گا۔ شناخت ہوتے ہی یہ فوجی اِس ڈرون کو یہ ’حکم‘ روانہ کرے گا کہ وہ متعلقہ ہدف سے جا کر ٹکرا جائے۔ یہ ہدایت ملتے ہی یہ ڈرون طیارہ اپنے ہدف سے ٹکرائے گا اور اُس میں موجود بارودی مواد ایک دھماکے سے پھٹ جائے گا۔

ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ اِنہیں ہدف سے ٹکرا جانے کی کمان دیے جانے کے بعد بھی عین آخری لمحات میں واپس بلایا جا سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ایک ایسی خصوصیت ہے، جو کسی اور ہتھیار میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آج کل امریکہ پاکستان اور دیگر علاقوں میں ڈرون حملوں کے لیے بڑے سائز کے Predator اور Reaper ڈرونز استعمال کر رہا ہے۔ ان ڈرونز سے طاقتور Hellfire میزائل فائر کیے جاتے ہیں اور بھاری بم ہدف پر پھینکے جاتے ہیں، جن سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ یہی حملے آج کل پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔

’خود کُش‘ ڈرونز کی تیاری کا ایک مقصد یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب اِنہیں فائر کیا جائے تو یہ صرف متعلقہ ہدف کو تباہ کریں جبکہ ہدف کے آس پاس موجود لوگ زیادہ نقصان سے محفوظ رہیں۔

اس طرح کے ڈرونز برطانوی پولیس کے استعمال میں ہیں

اس طرح کے ڈرونز برطانوی پولیس کے استعمال میں ہیں

امریکی فوج نے اس سال جون میں کیلیفورنیا کے اِس ادارے کے ساتھ 4.9 ملین ڈالر کے ایک معاہدے کی منظوری دی تھی اور اِس پر زور دیا تھا کہ وہ یہ ڈرون جلد از جلد تیار کر کے امریکی فوج کے حوالے کرے۔ یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کتنے ڈرونز کا آرڈر دیا گیا ہے اور یہ کب تک امریکی فوج کے حوالے کیے جائیں گے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپ بغیر پائلٹ والے اِس طرح کے ڈرون طیاروں کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اُن کا مؤقف ہے کہ اِس طرح  امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو عوامی احتساب یا کانگریس اراکین کی نگرانی کے خوف کے بغیر بیرون ملک مشتبہ افراد کو خفیہ طریقے سے ہلاک کرنے کی باقاعدہ ایک مہم شروع کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے / امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس