1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ بھیجے جانے والے دو پارسلوں میں دھماکہ خیز مادہ

امریکہ کی طرف سے تصدیق کردی گئی ہے کہ یمن سے امریکہ بھیجے جانے والے دو مشتبہ پارسلوں میں دھماکہ خیزمواد موجود تھا۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں ایک مختصر پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ یہ پارسل یمن سے بھیجے گئے تھے اور ان کا کھوج دبئی اور برطانیہ میں لگایا گیا۔ اوباما کا مزید کہنا تھا کہ یمن میں موجود القاعدہ کی طرف سے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ باراک اوباما کا کہنا تھا، " اس کے باوجود کہ حقائق کا کھوج لگانے کا عمل جاری ہے مگرہمیں یہ معلوم ہے کہ یہ پیکٹ یمن سے بھیجے گئے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ دہشت گرد گروپ جو کہ یمن میں موجود ہے، ہمارے ملک، ہمارے شہریوں اور ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کے خلاف حملوں کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے۔"

Jemen Rami Hans Harman

یمن میں حکومتی فورسز القاعدہ کے خلاف برسر پیکار ہیں

امریکی صدرکا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ یمنی حکومت نے ان پارسلوں کو بھیجنے والوں کا کھوج لگانے کے لئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ یہ پارسل شکاگو میں موجود دو یہودی مراکز کو بھیجے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایک مشتبہ پیکٹ یونائیٹڈ پارسل سروس UPS کے کارگو جہاز میں ایسٹ مِڈلینڈ ایئرپورٹ برطانیہ میں ملا جبکہ دوسرے پارسل کا کھوج دبئی میں موجود فیڈایکس کے ایک کارگو آفس میں لگایا گیا۔

امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کارگو کے ذریعے بھیجے جانے والے اس دھماکہ خیز مواد کے بعد فضائی سفر کے حوالے سے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

Gefangene im Jemen Terrorismus Vorwurf

یمن میں القاعدہ تنظیم کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے امریکی صدر کے مشیر جان برینن نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے امریکی حکام کو قبل از وقت ان پارسلوں کے حوالے سے اطلاع فراہم کردی گئی تھی۔ اس حوالے سے جان برینن نے سعودی حکام کا خاص طور پر شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری طرف یمنی حکومت کی طرف سے دھماکہ خیز مواد پر مشتمل پارسل امریکہ بھیجے جانے کی رپورٹوں میں یمن کو ملوث کرنے پر حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے۔ صحافیوں اور بعد ازاں سرکاری ویب سائٹ پر جاری کئے جانے والے ایک بیان کے مطابق یمن سے UPS کارگو سروس کا کوئی جہاز روانہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی برطانوی یا امریکی ایئرپورٹ کے لئے کوئی ڈائریکٹ یا اِن ڈائریکٹ پروازیں ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت امریکی، برطانوی اور اماراتی حکام سے تعاون کر رہی ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس