1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ بھر میں وال اسٹریٹ پر قبضے کی گونج

کارپوریٹ تجارتی اداروں اور مالیاتی امور سے متعلق استحصالی پالیسیوں کے خلاف ایک نئی عالمگیر تحریک جنم لیتی نظر آرہی ہے، جس کی سب سے زیادہ گرج سرمایہ دارانہ نظام کے بانی ملک امریکہ میں محسوس کی جارہی ہے۔

default

امریکی اقتصادی مرکز نیو یارک میں دھرنا دینے والے کئی مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ مظاہرین وال اسٹریٹ اور واشنگٹن اسکوائر پارک خالی کرنے سے انکاری ہیں۔ نیویارک شہر کی پولیس کے ترجمان پاؤل براؤن کے بقول 42 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ اس دوران دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ ’وال اسٹریٹ پر قبضہ کرلو‘ نامی اس تحریک کے کارکنوں نے ہفتے کو نیویارک میں زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ڈھول پیٹے، ہارن بجائے اور کارپوریٹ ہوس کاری کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نعرے لگارہے تھے کہ بینکوں کو بچانے کے لیے بیل آؤٹ فنڈز کی فراہمی کی خاطر عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔

دھرنے میں شریک کئی افراد نے مظاہروں کے دوران بینکوں میں جاکر اپنے اکاؤنٹ ختم کرکے اپنا عملی احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ واشنگٹن اسکوائر میں پولیس نے ایسے 24 افراد کو گرفتار بھی کیا جو سٹی بینک کے عملے کی درخواست کے باوجود وہا‌ں سے نکلنے پر تیار نہیں تھے۔

Occupy-Bewegung in Berlin Flash-Galerie

جرمن دارالحکومت میں منعقدہ مظاہرے کا منظر

ان مظاہرین سے یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں قریب 82 ممالک کے لگ بھگ 951 شہروں میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیا۔ اطالوی دارالحکومت روم کے علاوہ ہسپانوی شہر میڈرڈ، جرمن دارالحکومت برلن اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بھی ہزاروں افراد نے سرمایہ داری نظام کے خلاف مظاہرے کیے۔

نیو یارک میں خبر رساں ادارے اے پی کے نمائندوں نے کئی ایسے امریکی مظاہرین سے گفتگو کی جو یا تو بینکوں سے اپنا سرمایہ نکال رہے تھے یا اپنے اکاؤنٹ بند کر رہے تھے۔ JP Morgan Chase سے اپنی رقم نکالنے والی ایسی ہی ایک خاتون لائلی پاؤلینا نے بتایا کہ اس ادارے کے مالکان اربوں ڈالر کما رہے ہیں جبکہ اس کے صارفین مالی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک 20 سالہ طالبہ بیولا جیجی کا کہنا تھا کہ وہ ایسے نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتی جو اُن کے لیے کام نہیں کرتا۔

Flash-Galerie Wallstreet Occupy Wall Street New York

ایک امریکی شہری کا انداز احتجاج

یاد رہے کہ وال اسٹریٹ پر قبضہ کرلو تحریک کا نعرہ ہے کہ وہ اُن 99 فیصد امریکیوں کی آواز ہیں، جنہیں ایک فیصد سرمایہ دار طبقے نے مشکلات میں پھنسا رکھا ہے۔ مظاہروں میں افغان اور عراق جنگ کے مخالفین بھی شریک تھے۔ ادہر شکاگو شہر میں 175 ایریزونا ریاست میں کم از کم 40 جبکہ کولوراڈو اسٹیٹ میں سکیورٹی حکام نے قریب دو درجن مظاہرین کو حراست میں لیا۔

امریکہ کے شمال مشرقی شہر بوسٹن میں بھی پولیس نے وال سٹریٹ پر قبضہ کرلو تحریک سے وابستہ درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا ہے جبکہ دارالحکومت واشنگٹن میں بھی سرمایہ دارانہ نظام اور بیرونِ ملک جاری امریکی جنگوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM