1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ ۔ بھارت جوہری ڈیل میں اہم پیش رفت

اقوام متحدہ کے ادارے برائے ایٹمی توانائی ، IAEA‘کے بورڈ آف گورنرز نے ایک متفقہ فیصلے میں بھارت۔ امریکہ جوہری ڈیل کے معائنوں سے متعلق ایک سمجھوتے کو منظوری دے دی ہے۔

default

IAEA کی طرف سے یہ فیصلہ بھارت۔ امریکہ جوہری معاہدے کے لئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ لیکن ڈیل کی حتمی منظوری کے لئے پینتالیں ممالک پر مبنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ، NSG، اور پھر امریکی کانگریس کی طرف سے گرین سگنل ملنا ابھی بھی باقی ہے۔

بھارت۔ امریکہ غیر فوجی معاہدے پر گہری نظر رکھنے معروف بھارتی صحافی، سدھارتھ وردھراجن نے آئی اے ای اے کے فیصلے کو بھارت کے لئے بہت اہم قرار دیا۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے سدھارتھ وردھراجن نے کہا:’’ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے آج کے متفقہ فیصلے سے بھارت کے لئے امریکہ کے ساتھ سویلین نیوکلیئر ڈیل کی کامیابی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے تاہم معاہدے کی حتمی کامیابی کے لئے NSG کی طرف سے منظوری ملنا ابھی باقی ہے۔‘‘

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں IAEA کے ایک ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے متفقہ طور پر ایٹمی ڈیل کے معائنوں سے متعلق سمجھوتے کو منظوری دے دی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادئی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سمجھوتہ غیر معینہ مدت تک کے لئے ہے۔ ڈیل کے دیگر مراحل سے گُزرنے کے بعد امریکہ بھارت کو غیر فوجی جوہری ایندھن اور ٹیکنالوجی فراہم کرسکے گا۔

ویانا میں آج کے اس اہم فیصلے کے بعد بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی بھارت کی جوہری تنصیبات کی نگرانی کرسکے گی۔ ویانا کے اجلاس میں برازیل، جاپان، آئرلینڈ، آسٹریا اور سویٹزرلینڈ جیسے ممالک نے بھارت۔ امریکہ سویلین نیوکلیئر ڈیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جبکہ ایران نے جوہری معاہدوں کے حوالے سے امریکہ پر دوہرے معیار رکھنے کا الزام عائد کیا۔ ایران کا موقف تھا کہ ایک طرف امریکہ بھارت کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ایران کے جوہری پروگرام کو متنازعہ قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنا چاہتا ہے۔

آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے کل پینتیس رکن ممالک میں سے تئیس نے منصوبے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ بارہ نے سمجھوتے کی مخالفت کی۔ ایک مغربی سفارت کار کے مطابق تین ممبر ممالک نے اپنے زبردست تحفظات ظاہر کئے تاہم یہ اشارہ دیا کہ وہ بورڈ آف گورنرز کے متفقہ فیصلے کی حمایت کریں گے۔

برطانیہ نے اپنے ابتدائی ردعمل میں ایٹمی ایجنسی کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

DW.COM