1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ بدلے گا تو ایران بھی بدلے گا: آیت اللہ خامنہ ائی

ایرانی رہنما نے ہفتہ کو کہا کہ جب تک امریکہ صحیح معنوں میں تہران کے تئیں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا تب تک مفاہمت ممکن نہیں ہے۔

default

ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ائی نے کہا کہ ایران اسی صورت میں اپنی پالیسی تبدیل کرے گا اگر امریکہ اپنی پالیسی بدلتا ہے

ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ائی نے امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے باہمی رابطوں کے نئے سلسلے کے آغاز کی پیشکش پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

خامنہ ائی نے کہا کہ اوباما کا نیا ویڈیو پیغام بھی جارحانہ تھا اور اس میں ایران پر بہت سارے الزامات عائد کئے گئے۔خامنہ ائی نے تاہم کہا کہ اگر اوباما امریکی پالیسی میں تبدیلی لائیں گے تو اسلامی جمہوریہ ایران بھی اپنے موقف میں تبدیلی لانے کے لئے تیار ہوگا۔

Ahmadinedschad gibt Pressekonferenz

ایرانی صدر محمود احمد نژاد کے نذدیک امریکہ کی پالیسی جارحانہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہے

اوباما نے اپنے ایک حالیہ ویڈیو پیغام میں تہران حکومت کے ساتھ رابطے بحال کرنے کی پیشکش کی تھی۔ صدر اوباما نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران تشّدد کے راستے کو ترک کرکے امن کے راستے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ بین الاقوامی برادری میں ایک مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ اوباما نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ تمام تنازعات کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی خواہاں ہے۔

Obama TV Ansprache Iran

ایک ایرانی خاتون امریکی صدر باراک اوباما کے ویڈیو پیغام کو ٹیلی ویژن پر بڑے غور سے دیکھ اور سن رہی ہیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ خاوئیر سولانا نے بھی امریکی صدر باراک اوباما کی اس پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا۔ خاوئیر سولانا نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایرانی حکومت امریکی صدر اوباما کی نئی پیشکش کا مثبت جواب دے گی۔

Deutschland Regierungserklärung Bundeskanzlerin Angela Merkel im Bundestag

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایران کے حوالے سے امریکی صدر کے ویڈیو پیغام کا خیر مقدم کیا تھا

جمعہ کو نوروز یعنی ایران میں نئے سال کی آمد کے موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ائی نے کہا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت تہران کے جوہری پروگرام کو روک نہیں سکتی ہے۔ خامنہ ائی نے یہ بھی کہا تھا کہ اب عالمی رہنما اس بات کو جان گئے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو طاقت کے بل بوتے پر روکا نہیں جاسکتا ہے۔

1980ء سے ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔

دریں اثناء ایرانی صدر کے پریس ایڈوائزر نے بھی اوباما کی پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد کے اس دیرینہ موقف کو دہرایا تھا کہ امریکہ کو ایران کے قریب آنے سے قبل ان کے بقول اپنی ’’غیر حقیقت پسندانہ اور جارحانہ پالیسی‘‘ میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔