1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

امریکہ بائی ہارٹ: سارہ پیلن کی نئی کتاب

سن 2008 کے امریکی صدارتی الیکشن میں ہارنے والے امیدوار جان میک کین کی ساتھی امیدوار برائے نائب صدر سارہ پیلن کی نئی کتاب بازار میں آ گئی ہے۔ وہ اس کتاب کی پبلسٹی مہم میں زور شور سے شریک ہیں۔

default

سارہ پیلن: فائل فوٹو

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان سارہ پیلن نے اپنی نئی کتاب میں امریکی معاشرے کے خدو خال کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں پیلن نے امریکی معاشرتی اقدار میں خاندان، عقیدے اور پرچم کی اہمیت کو اپنی سوچ کے تحت اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سارہ پیلن نے اس کتاب میں عوامی دانش کو بھی سمونے کی ایک کوشش کی ہے۔ اگلے دنوں میں ناقدین ہی طے کر سکیں گے کہ کتاب کا مواد کس حد تک قومی سطح کا ہے۔

سارہ پیلن اپنی نئی کتاب کو مقبول و معروف کروانے کے سلسلے میں ایک سولہ ریاستی سفر بھی کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے سفر کی تشہیر مختلف ریاستوں کے اہم شہروں میں بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اس سفر کے دوران وہ جن ریاستوں میں جائیں گی، ان میں لوئزیانہ، ٹیکساس،

USA Republikaner Nominierungsparteitag in St. Paul Bristol Palin

سارہ پیلن کی بیٹی برسٹل: فائل فوٹو

ارکنساس، کنٹکی وغیرہ نمایاں ہیں۔ مختلف کتابوں کی دوکانوں پر سارہ پیلن کی کتاب حاصل کرنے والوں کا خاص رش دیکھا گیا۔

مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ان کی کتابوں کی پذیرائی سے وہ سن 2012 کے صدارتی الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہیں۔ اس مناسبت سے دو تین ہفتے قبل پیلن کا کہنا تھا کہ وہ سن 2012 انتخابات میں باراک اوباما کو شکست دے سکتی ہیں۔ پیلن کو سابقہ الیکشن کے دوران عوامی مذاق کا سامنا بہت زیادہ کرنا پڑا تھا۔ لیکن الیکشن کے بعد وہ مسلسل عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ پہلے ان کی یادداشتوں کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ آج کل ان کی ایک وجہ شہرت ان کی بڑی بیٹی برسٹل پیلن کا مشہور امریکی ڈانس شو ’’ڈانسنگ ود دی سٹارز‘‘ میں مسلسل عوامی تائید حاصل کرتے کرتے فائنل مرحلے تک پہنچنا ہے۔

اس کتاب کی رونمائی کے وقت بے شمار لوگ ری پبلکن پارٹی کی سیاسی لیڈر سارہ پیلن سے دستخط شدہ کتاب کے حصول میں گھنٹوں منتظر رہے۔ سارہ پیلن کا تعلق امریکی ریاست الاسکا سے ہے اور وہ اس کے شہر واسیلا میں رہتی ہیں۔ انہوں نے سن 1984 میں مس الاسکا کا اعزاز بھی جیتا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس