1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ ایران سے براہ راست مذاکرات پرآمادہ

امریکہ نے ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات میں براہ راست حصہ لینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

default

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان رابرٹ ووڈ کے بیان کے مطابق واشنگٹن حکومت نے کہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی ویٹو پاورز اور جرمنی، تہران کے ساتھ ایٹمی تنازعے کے حل کے لئے مشاورت پر رضامند ہیں تو امریکہ بھی آئندہ مذاکرات کی میز پر موجود ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکہ کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اِس سے زیادہ اہم کوئی اور بات نہیں کہ ایران کو قائل کیا جائے کو وہ جوہری ہتھیار سازی سے باز رہے۔ امریکہ کی یہ پالیسی باراک اوباما کے پیش رو صدر بُش کی ایران پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہے۔

اِس سے پہلے پیر کو ترک پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران امریکی صدر باراک اوباما ایران کے حوالے سے کہا تھاکہ ایران اقوام کے مرکزی دھارے میں شریک ہو کر اقتصادی اور سیاسی معاملات میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے لیکن اس کے لئے ایرانی لیڈروں کو انتخاب کرنا ہو گا کہ وہ ہتھیار سازی چاہتے ہیں یا اپنی عوام کے لئے بہتر مستقبل۔

اِس سلسلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے خارجہ امور کے چیف خاوئیر سولانہ کو مشورہ دیں گے کہ وہ تہران حکومت کو بات چیت کی دعوت دیں تاکہ جمودکی شکار کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔ مذاکرات کے لئے کسی حتمی تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی صدر کی دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی اپیل کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ ایران کی بھی یہ خواہش ہے کہ دنیا سے جوہری ہتھیار ختم کئے جائیں اور تہران حکومت اِس سلسلے میں اپنے فرائض انجام دے گی۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق احمدی نژاد نے اِس بیان میں یہ بھی کہا ہےکہ اِس پیش قدمی کا اہم ترین مقصد یہ ہونا چاہیے کی ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کو غیر مسلح کیا جائے۔ ایرانی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سول مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قوم کی جانب جو ہاتھ بڑھایا گیا ہے اگر وہ ایمانداری، انصاف اور احترام پر مبنی ہے تو اس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں۔ چھ ملکی گروپ کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان ایران میں قومی جوہری دن کی تقریبات سے ایک دِن قبل آ یا ہے۔

چین شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں بھی چھ ملکی مذاکراتی عمل کا میزبان رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کا خام تیل کا بڑا خریدار اور تجارت کا قریبی پارٹنر بھی چین ہی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ باعث مسرت ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور اُن کا ملک ایران اور دوسرے فریقین کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ ایران کے ساتھ رابطوں میں تحریک رکھیں تا کہ جوہری معاملے پر ایک طویل المدتی اور مناسب حل ڈھونڈا جا سکے۔


DW.COM