1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور یورپ میں اربورں ڈالر کے ٹھیکے پر اختلافات

امریکہ اور یورپ کے درمیان 35 ارب ڈالر کے ایک دفاعی معاہدے پر سرد مہری اور کھنچاؤ کا ماحول برقرار ہے۔ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

default

امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگون‘ کی جانب سے اعلان کردہ فضاء میں طیاروں میں ایندھن بھرنے سے متعلق ایک ٹھیکہ فروری سن 2008ء میں دو مختلف مگر بڑی یورپی کمپنیوں European Aeronautic Defence and Space اور Northrop کے مشترکہ کنسورشیئم کو دیا گیا تھا۔ اس بولی میں شریک امریکی کمپنی بوئنگ نے فیصلے کے خلاف امریکی کانگریس میں اپیل دائر کی جو منظور کرلی گئی اور اب دوبارہ بولی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Pentagon Logo

یورپی تحفظات کے باوجود امریکی وزارت دفاع نے بولی کا عمل مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے

یورپی کمپنیاں بطور احتجاج اور نئی شرائط میں بوئنگ کو نوازنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس عمل میں شریک ہونے سے علیحدگی کا اعلان کرچکی ہیں۔ پینٹاگون نے ہر صورت میں رواں برس مئی کے وسط میں نیلامی منعقد کرنے اور ستمبر میں ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے تحت امریکی فضائیہ کے لئے فضاء میں طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لئے نئے طیارے تیار کئے جائیں گے۔

فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی آئندہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما سے اپنی ملاقات میں ممکنہ طور پر اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہاکہ :’’امریکہ نے اپنے اتحادی یورپ سے جو سلوک روا رکھا ہے وہ مناسب نہیں ہے‘‘۔ دوسری جانب اقتصادیات کے ماہرین کے نزدیک بھی یہ طریقہ درست نہیں اور امریکہ Protectionism کی مثال قائم کر رہا ہے جو بین الاقوامی اقدار کے منافی ہے۔

یورپی کمپنیوں کے کنسورشیئم کے احتجاج اور بائیکاٹ کے بعد بولی کے عمل میں اکیلی امریکی کمپنی کے رہ جانے کے باوجود پینٹاگون کے نیلامی کے عمل کو جاری رکھنے کے اعلان پر برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار سامنے آ چکا ہے۔ ٹھیکے کے معاملے میں اعلیٰ یورپی حکام نے پہلی بار امریکہ کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Staatsbesuch Sarkozy trifft Brown

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی

امریکی وزارت دفاع ’پینٹاگون‘ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، یورپی دفاعی صنعت کی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نائب امریکی وزیر دفاع Ashton Carter نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ Protectionism پر عمل پیرا بالکل نہیں۔ یورپی کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ یورپ پر زیادہ دفاعی سازوسامان بیچتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں کم خریدتا ہے۔ 2008ء میں یورپ کے لئے امریکی دفاعی سامان کی برآمدات 5 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات محض دو اعشاریہ دو ارب ڈالر رہیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عابد حسین

DW.COM