1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی تازہ دھمکیوں اور دو امریکی نوجوان صحافی خواتین کو طویل عرصے کی قید کی سزائیں سنائے جانے کے بعد امریکہ اورشمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

default

شمالی کوریا کے حالیہ جوہری اور میزائل تجربوں کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے

US-Außenministerin Hillary Clinton droht Pjöngjang Konsequenzen an

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے شمالی کوریا کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے


عالمی برادری کی جانب سے کی جانے والی اپیلوں کے باوجود شمالی کوریا کا لب و لہجہ بدستور غیر لچکدار ہے اور اطلاعات ہیں کہ یہ ملک نئے میزائل تجربات کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اِس کمیونسٹ ریاست کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے حملے کی صورت میں شمالی کوریا ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے۔

اِن دھمکیوں کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔ اُن دونوں امریکی صحافی خواتین کا معاملہ پہلے ہی دونوں ملکوں کے درمیان نزاع کی وجہ بنا ہوا ہے، جنہیں پیر کے روز شمالی کوریا کی ایک عدالت نے جاسوسی کے الزام میں بارہ بارہ سال کی قید با مشقت کی سزا سنائی تھی۔ امریکی صدر باراک اوباما نے شمالی کوریائی عدالت کے فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے جبکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے زور دے کر کہا ہے کہ شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر اِن خواتین کو رہا کر دینا چاہیے۔

Proteste gegen die Inhaftierung amerikanischer Journalistinen

امریکی صحافی خواتین کا معاملہ پہلے ہی دونوں ملکوں کے درمیان نزاع کی وجہ بنا ہوا ہے

اِسی دوران اِن خواتین کے رشتہ داروں نے بھی امریکی ٹیلی وژن پر آ کر پیانگ یانگ حکومت سے اِن کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور دیگر امریکی عہدیدار اُمید ظاہر کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا اِن دونوں خواتین کے معاملے کو دیگر تنازعات سے الگ رکھے گا تاہم تجزیہ نگاروں کے خیال میں پیانگ یانگ حکومت مارچ میں حراست میں لی گئی اِن خواتین کو واشنگٹن حکومت کے ساتھ سودے بازی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے جوہری تجربات اور دھمکیوں کے پیشِ نظر امریکہ اور جاپان عالمی سلامتی کونسل میں یہ کوششیں کر رہے ہیں کہ اِس کمیونسٹ ملک کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

کل منگل کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا کہ بات چیت میں پیشرفت تو ہو رہی ہے لیکن ابھی حتمی اتفاقِ رائے نہیں ہو پا رہا۔ واضح رہے کہ روس اور چین یہ نہیں چاہتے کہ مزید پابندیاں عاید کرتے ہوئے شمالی کوریا کو اشتعال دلایا جائے۔ امریکی حکومت ایک بار پھر اِس ملک کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

DW.COM