1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جنیوا میں مذاکرات

آج پیر کو جنیوا میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات ہو رہے ہیں۔ فریقین کے درمیان تین ماہ کے عرصے میں براہ راست بات چیت کا یہ دوسرا دور ہے۔

default

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال

اگرچہ تجزیہ کار اس دو روزہ مکالمت کے دوران کسی بڑی پیشرفت کی توقع نہیں کر رہے تاہم صرف دونوں فریقوں کا مل بیٹھنا ہی بذات خود ایک کامیابی ہے۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے جوہری عدم پھیلاؤ کے پروگرام کے سربراہ مارک فٹز پیٹرک کا کہنا ہے، ’’میرے خیال میں لوگوں کے نزدیک یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ ان میں نتائج کے لحاظ سے کوئی چیز ٹھوس نہیں ہے۔‘‘

ان مذاکرات میں شمالی کوریا کے وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کم کائی گوان کر رہے ہیں جبکہ امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے اسٹیفن بوس ورتھ اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

Demilitarisierte Zone Korea Panmunjom

گزشتہ برس نومبر میں شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر گولہ باری کے باعث جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی تھیں

اجلاس سے قبل امریکی دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا، ’’ہماری تشویش یہ ہے کہ اگر ہم ان کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے تو شمالی کوریا کی جانب سے اس کا غلط تخمینہ لگایا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے۔‘‘ مبصرین کے بقول شمالی کوریا جنیوا اجلاس میں کسی قسم کی رعایتوں کی پیشکش نہیں کرے گا۔

شمالی کوریا چھ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاہم امریکہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیار ترک کرنے سے واضح وابستگی ظاہر کیے بغیر چھ فریقی مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔

ستمبر 2005ء میں شمالی کوریا نے سلامتی کی ضمانتوں، توانائی کے شعبے میں امداد اور امن معاہدے کے عوض اپنا جوہری پروگرام اور تمام جوہری ہتھیار ترک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اپریل 2009ء میں پیانگ یانگ نے چھ فریقی فورم سے واک آؤٹ کیا تھا اور اس کے ایک ماہ بعد ہی اس نے اپنا دوسرا ایٹمی دھماکہ کر دیا تھا۔

Sechsergespräche Atomprogramm Nordkorea 19.03.2007

ستمبر 2005ء میں شمالی کوریا نے سلامتی کی ضمانتوں، توانائی کے شعبے میں امداد اور امن معاہدے کے عوض اپنا جوہری پروگرام اور تمام جوہری ہتھیار ترک کرنے پر اتفاق کیا تھا

گزشتہ برس نومبر میں شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر گولہ باری کے باعث جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی تھیں۔ تاہم انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے بالی پر ایشیائی سلامتی کانفرنس کے موقع پر جنوبی اور شمالی کوریا کے جوہری مندوبین کی اچانک ملاقات کے بعد جولائی میں نیویارک میں امریکہ اور شمالی کوریا کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔

یہ مذاکرات ایسے موقع پر بھی ہو رہے ہیں جب واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان 1950ء سے 1953ء کی کوریائی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکیوں کی جسمانی باقیات کی تلاش کا کام دوبارہ شروع ہوا ہے۔

ادھر شمالی کوریا کے اہم اتحادی چین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کرے تاکہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔ چین کے نائب وزیر اعظم لی کی کیانگ نے بیجنگ میں شمالی کوریا کے وزیر اعظم چو ہونگ رم کو بتایا کہ شمالی کوریا کے سیول اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری چین اور دوسرے ملکوں کے مفاد میں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بیجنگ پیانگ یانگ کا مضبوط اتحادی رہے گا۔

رپورٹ: حماد کیانی/ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM