1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور روس کے درمیان پگھلتی ہوئی برف

صدر باراک اوباما نے امریکہ کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات میں بہتری کی امید ظاہر کی ہے۔ یہ بات امریکی صدر نے جمعرات کو روسی وزیر خارجہ سرگئے لیوروف سے ایک ملاقات بعد کہی۔

default

امریکی صدر باراک اوباما اور روسی وزیرِ خارجہ لیوروف

ملاقات میں دونوں ممالک نے تخفیف اسلحہ کے علاوہ دیگر اہم امور پر بھی بات کی گئی۔ روسی وزیر خارجہ لیوروف کی امریکہ کے صدر اوباما سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے دیئے جانے والے بیانات میں نہ صرف تعلقات میں بہتری کی بات سننے کو ملی بلکہ دونوں ملکوں نے خلاف توقع جارجیا کے مسئلے پر اختلاف سے بھی گریز کیا۔

USA Russland Treffen Sergej Lawrow mit Barack Obama in Washington

ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن بھی شریک تھیں

اوباما نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات میں زیر بحث موضوعات کے بارے میں کہا کہ امریکہ کے لئے دونوں ریاستوں کے درمیان روابط کو مختلف موضوعات پر ازسرنو شروع کرنے کا بہترین موقعہ ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اس میں جوہری ہتھیاروں اور پھیلاؤ میں کمی، پاکستان اور افغانستان کی صورتحال، ایران اور مشرق وسطی کے لئے حکمت عملی، دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات، اور پوری دنیا کے ممالک کو درپیش مالی بحران کو کس طرح حل کیا جائے جیسے موضوعات شامل تھے۔

اوباما نے مزید کہا کہ امید کی جارہی ہے کہ سال رواں کے مذاکرات دونوں ملکوں کے مفاد میں ثابت ہوں گے۔ اس حوالے سے لیوروف نے دونوں ریاستوں کی ملاقات کو عملیت پسندانہ اور سنجیدہ قرار دیا۔ صدر اوباما سے ملاقات سے قبل روسی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے بھی ملاقات کی جس میں انہی امور پر گفتگو کی گئ۔ کلنٹن نے امریکہ اور روس کے روابط کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ ایک یا دو موضوعات پر اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی ملک کے ساتھ مزاکرات کا سلسلہ ہی ترک کردیا جائے۔

USA Russland Treffen Sergej Lawrow mit Barack Obama in Washington

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں امریکی صدر نے تخفیفِ اسلحہ سے متعلق روس اور امریکہ کے درمیان ایک نئے معاہدے کی اہمیت پر زور دیا

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تخفیف اسلحہ کے ایک نئے معاہدے کی تشکیل ہے۔ 1991 کا اسٹارٹ نامی معاہدے کی معیاد اس سال دسمبر میں ختم ہونے کو ہے۔ اس معاہدے کے تحت دنیا کہ ان دو بڑی قوتوں نے جوہری اسلحہ میں تقریبا ایک تہائی کمی کی تھی۔ امریکی صدر جولائی میں اس معاہدے کے مقاصد طے کرنے ماسکو کا دورہ کریں گے۔ اس کے علاوہ مئی میں بھی اس سلسلے میں ماسکو میں دونوں ممالک کے مابین مذاکرات متوقع ہیں۔

امریکہ اور روس کے تعلقات میں سرد جنگ سے جاری کشیدگی کی جھلک پچھلے سال امریکہ کے مشرقی یورپ میں مزائل ڈیفینس سسٹم اور جارجیا کے مسئلے پر نظر آئی تھی۔ تعلُقات میں خوشگوارایت کے باوجود دونوں ریاستوں میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے بابت اعتراض ہنوز قائم ہے۔