1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور روس تخفیف اسلحہ کی جانب

امریکہ اور روس کے سفارت کاروں نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے حوالے سے روم میں ہونے والے مذاکرات کو ’’تعمیری‘‘ قرار دیا ہے۔

default

امریکہ اور روس کے مابین حال ہی میں ہونے والے مذاکرات کو تخفیف اسلحہ سے متعلق نئے معاہدے کی تیاری سمجھا جارہا ہے۔ اٹلی کے دارلحکومت روم میں امریکی اور روسی سفارتکاروں کی ملاقات کا بنیادی مقصد جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے حوالے سے نئے معاہدے کی بنیاد فراہم کرنا تھا۔ فریقین کے مابین جوہری ہتھیاروں اوران کی ترسیل کے ذرائع میں کمی کرنے کے 1991ء کے معاہدے کی میعاد اس سال دسمبر میں پوری ہورہی ہے۔

Symbolbild USA Russland

امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دیمتری میدویدیف


دونوں ممالک کے سفارتکاروں نے روم منعقدہ ملاقات کے دوران جوہری ہتھیاروں میں مزید کمی پر رضامندی ظاہر کی۔ اس معاہدے کی کامیابی کی صورت میں امریکہ اور روس کے تعلقات میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔ نئے معاہدے کے سلسلے میں اگلے دو ماہ میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ گزشتہ ماہ بیس صنعتی ملکوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کے سربراہ اجلاس کے موقع پرامریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر دیمتری میدویدیف کے درمیان لندن میں ہونے والی ایک خصوصی ملاقات کے دوران تخفیف اسلحہ پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔

روسی وزارت خارجہ کے شعبہء برائے سلامتی اور تخفیف اسلحہ کے سربراہ Antonov Anatoly نے اس ملاقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "فریقین پرامید ہیں کہ پہلے معاہدے کی میعاد پوری ہونے سے قبل ہی نیا معاہدہ تیار کرلیا جائے گا"۔

USA Russland Neuanfang

روم منعقدہ ملاقات سے قبل روسی چیف آف جنرل سٹاف نیکولائی ماکاروٴف نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر نیا معاہدہ طے پاتا ہے تو روس اپنے جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ کمی کرنے پر تیار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے معاہدے کی اہمیت 2002ء میں ہونے والے ماسکو معاہدے سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوگی۔ باراک اوباما کے صدر بننے کے بعد روس اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کا نیا معاہدہ امریکی صدر کی اسلحہ کے خلاف مہم کے سلسلے میں پہلا مثبت قدم ثابت ہوگا۔

دریں اثناء اوباما کی جوہری ہتھیاروں کے خلاف حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق روسی صدر میخائل گورباچوف نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے سلسلے میں گفتگو اس وقت تک بے سود ثابت ہوگی جب تک امریکہ خود اپنی ’’عسکری فوقیت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے ملکوں کو جوہری اسلحہ ترک کرنے کو کہے گا۔‘‘