1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ اور بھارت کے مابین جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے بھارت کے سرکاری دورے کے موقع پر دونوں ملکوں نے تین اہم معاہدوں پر دستخط کئے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دونو ں ملکوں کے مابین مضبوط تعلقات اکیسویں صدی کے لئے ضروری ہے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کےساتھ

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن گوکہ پچھلے چار دنوں سے بھارت میں تھیں لیکن پیر کے روز ان کی سرکاری مصروفیات کا سب سے اہم دن رہا۔ انہوں نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک اور حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے ساتھ ایک گھنٹے بات چیت کی۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر لال کرشن اڈوانی کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے وفد کی سطح پر اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ساتھ بھی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

Clinton in Indien mit Minister Krishna

ہلیری کلنٹن اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ

ایس ایم کرشنا نے بعد میں ہلیری کلنٹن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملکوں نے تین معاہدوں پر دستخط کئے ہے۔ ا ن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کا معاہدہ صحافیوں کی موجودگی میں کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے ٹیکنیکل سیف گارڈ معاہدہ بھی کیا ۔ اس کے تحت بھارت اپنے خلائی پروگرام کے لئے امریکی ساز وسامان درآمد کرسکے گا۔ تیسرا اور سب سے اہم معاہدہ End User Monitoring Agreement ہے جس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تقریبا تمام راہیں کھل گئی ہیں۔

حالانکہ اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تکنیک اور آلات درآمد کرنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے لیکن اس معاہدے کی رو سے امریکہ کو ان تمام اداروں اور تنصیبات کے معائنہ کا اختیار حاصل ہوگا جہاں امریکی دفاعی سازو سامان کا استعمال ہوا ہو۔ بھارت اب تک امریکہ کو اس طرح کی اجازت دینے سے انکار کرتار ہا تھا۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے یہاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’میرا یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات اکیسویں صدی کے لئے ضروری ہیں‘‘۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ بھارت۔ا مریکہ سول نیوکلیائی معاہدے کے تحت دو مقامات پر نیوکلیئر پاور پلانٹ قائم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں اور اس کے لئے جگہ کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جہاں امریکی سرمایہ کاروں کو زبردست فائدہ ہوگا وہیں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو ں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے تاہم آگاہ کیا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ نیوکلیائی تکنیک غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اس سلسلے میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے کہ ان خطرات کوکیسے کم کیا جائے۔

ہلیری کلنٹن نے اس بات کی تردید کی کہ امریکہ بھارت کے مقابلے چین اور پاکستان کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے قریبی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ کو پہلے غیرملکی سربراہ کی حیثیت سے چار نومبرکو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ حالانکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات کررہا ہے لیکن اس بات کے ثبوت ہیں کہ 11 ستمبر2001 کے دہشت گردانہ حملے کے متعدد ملزمان پاکستان کے سرحدی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اتحادی افواج کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے تاہم بتایا کہ اوباما انتظامیہ نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سلسلے میں بھارت اور امریکہ کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کہہ چکے ہیں کہ بھارت یہ نہیں چاہتا ہے کہ ایران نیوکلیائی طاقت حاصل کرے۔

Clinton in Indien

ہلیری کلنٹن نے سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ انہوں نے ہلیری کلنٹن کے ساتھ سول نیوکلیائی معاہدہ، ماحولیاتی تبدیلی، نیوکلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک اور معیشت کو درپیش نئے چیلنجز پر بات چیت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں نے باہمی مذاکرات کے لئے ئے فورم بنائے ہیں جن میں ماحولیاتی تبدیلیDisarmamen، اور تجدید اسلحہ کوشامل کیا جائے گا۔

ممبئی پر گزشتہ سال نومبر میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں زندہ بچ جانے والے واحد مجرم عامر اجمل قصاب کی طرف سے آج ممبئی کی خصوصی عدالت میں اعتراف جرم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ایس ایم کرشنا نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے گوکہ ممبئی حملوں نے جامع مذاکرات کو پیچھے دھکیل دیا ہے لیکن دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت:ندیم گل

DW.COM