1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکہ اسلام قبول کرے‘، الشباب کی دھمکی

’امریکی صدر باراک اوباما اور امریکی شہری اگر مذہب اسلام قبول نہیں کرتے تو ان پر حملے کئے جائیں گے‘۔ صومالی باغی گروہ الشباب کی طرف سے جاری ہونے والی اس نئی مبینہ دھمکی کو محض ایک پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔

default

دہشت گرد القاعدہ نیٹ ورک کے حامی اس عسکری گروہ نے خبردارکیا ہے کہ اگر امریکی صدر اور عوام مسلمان نہیں ہوجاتے تو ان کے جانباز امریکہ کے اندر حملوں کا آغاز کر دیں گے۔ الشباب کے تیسرے سب سے بڑے رہنما فواد محمد خالف کی طرف سے منگل کو جاری کئے جانے والے اس بیان کو ایک پروپیگنڈے کی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صومالیہ اور بیرون ممالک میں سکونت پذیر سکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ اس گروہ میں نہ تو اتنی سکت ہے اور نہ ہی وسائل کہ یہ امریکی سر زمین پر کوئی دہشت گردانہ کارروائی سر انجام دے سکے۔ موغا دیشو یونیورسٹی سے وابستہ تاریخ کے لیکچرر راگی فارح کہتے ہیں،’ میں یہ یقین نہیں کر سکتا ہوں کہ الشباب اپنی اس نئی دھمکی کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک پروپیگنڈا ہے۔‘

Somalia Mogadischu

موغادیشو میں سرگرم الشباب کے جنگجو

خبررساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے راگی فارح نے کہا کہ الشباب نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ افریقی یونین کے امن فوجی دستوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے،’ یہ عسکری گروہ یوگنڈا یا اپنے دیگر ہمسایہ ممالک میں ہی کارروائیاں کر سکتا ہے، جو ان کی رسائی میں ہیں۔‘ رواں سال ہی یہ عسکری گروہ یوگنڈا میں ایک بڑا بم حملہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ جولائی میں یوگنڈا کے دارالحکومت میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم ازکم 79 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ گروہ کمزورہوتا جا رہا ہے۔

صومالی حکومت اورافریقی یونین کے فوجی امن دستوں نے مشترکہ طور پر گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران الشباب کے خلاف کافی زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کےمطابق موجودہ صورتحال کے تناظرمیں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس وقت یہ گروہ انتہائی کمزور ہو چکا ہے اوراب یہ صومالی حکومت کا تختہ الٹنے کی اہلیت بھی کھو چکا ہے۔

نیروبی یونیورسٹی سے وابستہ ایک سکیورٹی تجزیہ نگارعبدی وہاب عبدی سرمد کے مطابق،’ اس وقت الشباب کے پاس کوئی تین ہزار تا پانچ ہزار جنگجو ہیں۔ پاکستان اورافغانستان سے تعلق رکھنے والے دو ہزارجنگجو بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ الشباب کے اندر بھی نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ گروہ دو گروپوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔ سرمد کے بقول ایک گروپ جہاد کی طرف مائل ہےجبکہ دوسرا صومالیہ پر قابض ہونے کی کوشش میں ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس