1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکہ اتحادی سے محروم ہوسکتا ہے‘

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد پر عسکریت پسندوں کی سرپرستی کے الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی سے محروم ہوسکتا ہے۔

default

گزشتہ کچھ دنوں سے امریکہ کی اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت براہ راست انداز میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر انگلیاں اٹھانے لگی ہے۔ اس سے قبل بالواسطہ انداز میں قدرے نچلے درجے کی قیادت یہ نکتہ چینی کرتی تھی کہ پاکستان سے افغانستان میں مداخلت کرنے والے عسکریت پسندوں کے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے مراسم ہیں۔ نیویارک میں اخباری نمائندوں سے گفتگو میں کھر کا کہنا تھا، ’’ آپ (امریکہ) پاکستان کو اور پاکستانی عوام کو خارج نہیں کرسکتے، اگر آپ اپنی خواہش کے تحت ایسا کریں گے تو اس کی قیمت بھی آپ ہی کو چکانا پڑے گی۔‘‘

حنا ربانی کی یہ بات امریکی فوج کی مشترکہ کمان کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے بیان کا جواب تھی۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مولن نے امریکی سینٹ میں دیے گئے بیان میں کہا کہ آئی ایس آئی اور عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ مولن کے بقول رواں ماہ کی ۱۳ تاریخ کو کابل میں امریکی سفارتخانے پر عسکریت پسندوں کے حملے میں آئی ایس آئی ملوث ہے۔

Flash-Galerie Antiamerikanische Proteste in Pakistan

پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات خاصی بڈی حد تک موجود ہیں

  

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھنے والا تناؤ ابھی کم نہیں ہوا تھا کہ بیان بازی کا یہ نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔ حنا ربانی کھر نے تسلیم کیا کہ آپریشنل سطح پر دونوں ممالک کے مابین بہت سی مشکلات موجود ہیں۔ بھارتی ٹیلی وژن چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کھر کا کہنا تھا کہ انگلیاں اٹھانے سے بات نہیں بنے گی، پاکستان عسکریت پسندی کے مقابلے پر پختگی سے لڑ رہا ہے اور ایک ذمہ دار ملک بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ طویل عرصے سے ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ان دو ممالک کے تعلقات کے یکسر منقطع ہوجانے کا امکان نہیں۔ امریکہ کے لیے پاکستان خطے میں ایک اہم اتحادی، افغانستان متعین افواج کے لیے اہم رسدگاہ اور ڈرون طیاروں کا اہم اڈہ ہے۔ ویسے ہی امریکہ پاکستان کے لیےمالی امداد اور سیاسی سرپرستی کے حوالے سے اہم ترین حلیف ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM