1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ آسٹریلیا میں 2,500 فوجی تعینات کرے گا

امریکہ آسٹریلیا کے ساتھ اپنے 60 سالہ فوجی اتحاد کو توسیع دینے کے لیے وہاں 2,500 فوجی تعینات کرے گا۔ یہ بات بدھ کو امریکی صدر باراک اوباما اور آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے کینبرا میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

default

دونوں رہنماؤں کی جانب سے یہ اعلان خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے تناظر میں کافی اہم خیال کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ 2012ء کے وسط میں آسٹریلیا کے شمالی خطے میں واقع بندرگاہی شہر ڈارون میں 250 فوجیوں کا پہلا دستہ تعینات کرے گا۔

بعد میں یہ تعداد بڑھا کر 2,500 اہلکاروں تک کر دی جائے گی۔ فوجی اہلکاروں کے علاوہ امریکی بحری جہاز، ہوائی جہاز اور فوجی گاڑیاں بھی وہاں تعینات کی جائیں گی۔ امریکی فوجی آسٹریلوی دفاعی فورس کے ساتھ مل کر وہاں تربیتی مشقیں کریں گے۔

کینبرا میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے کہا، ’’ہم نے اپنے اتحاد کو تقویت دینے کے لیے مشترکہ منصوبہ پر اتفاق کیا ہے۔ یہ آسٹریلوی دفاعی فورس اور امریکی میرین فورس کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو توسیع دینے کا ایک نیا معاہدہ ہے۔‘‘

ادھر چین نے اس پیشرفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں امریکی فوج کی تعیناتی کو ’موزوں تصور نہیں کیا جا سکتا‘۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیو وائیمِن نے کہا، ’’فوجی اتحادوں کو مضبوط بنانا اور ان کی توسیع کرنا موزوں اقدام نہیں اور یہ خطے کے ملکوں کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق چین کو خدشہ ہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا کے بعد اب آسٹریلیا میں بھی فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد امریکہ چین کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے۔

Terrorübung in Australien

امریکی فوجی آسٹریلوی دفاعی فورس کے ساتھ مل کر تربیتی مشقیں بھی کریں گے

امریکی صدر اوباما نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد خطے میں موجود امریکہ کے اتحادیوں کو واضح پیغام دینا ہے کہ امریکہ ایشیا بحرالکاہل کے ساتھ اپنی وابستگی میں اضافہ کرے گا۔

عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی مدت نزدیک ہونے کے ساتھ اب واشنگٹن کی توجہ بحیرہ جنوبی چین کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ وہاں سے سالانہ 5 ٹریلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ چین اس سمندر پر اپنا حق بلاشرکت غیرے تصور کرتا ہے کیونکہ یہ علاقہ تیل، معدنی وسائل اور ماہی گیری سے مالا مال ہے۔ ویت نام، فلپائن، تائیوان، ملائیشیا اور برونائی بھی سمندر کے کچھ حصوں کے دعویدار ہیں۔

چین کا اصرار ہے کہ اس سمندر کی ملکیت سے متعلق کسی بھی تنازعے کو دو طرفہ مذاکرات کے ‌ذریعے حل کیا جائے اور امریکہ کو اس میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM