1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ ،آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کی تجاویز

آسٹریلیا سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا، امریکہ اور بھارت کو سہہ فریقی مذاکرات کے زریعے ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے کہ مستقبل میں چین کی جانب سے بھارت کے خلاف کسی بھی بحری جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

default

یہ رپورٹ تینوں ممالک کے معروف تھنک ٹینکس نے مل کر تشکیل دی ہے اور اس چیز پر زور دیا گیا ہے کہ دہلی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے سمیت دیگر معاملات میں تعاون کو فروغ دیا جائے۔

یہ رپورٹ تینوں ملکوں کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی کے معاملات میں مذاکرات اور تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تجاویز بھی فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، امریکہ اور آسٹریلیا کو ایک دوسرے پر اعتماد کو فروغ دیتے ہوئے اسٹریٹیجک اور عملی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔ بھارتی بحریہ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے لیے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں سمندری حدود کی نگرانی، آبدوز شکن نظام کی مشقیں اور دفاعی میزائل سسٹم کی تنصیب میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے ۔

چین کی جانب سے دوسرے ممالک کو مبینہ طور پر سمندری حدود میں ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد بھارت کی اس شعبے میں ترقی اور بہتری کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تھا۔

چین کی جانب سے دوسرے ممالک کو مبینہ طور پر سمندری حدود میں ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد بھارت کی اس شعبے میں ترقی اور بہتری کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تھا۔

تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے تھنک ٹینکس کی جانب سے مرتب کی گئی اس رپورٹ کا موضوع ہے، ’’شیرئڈ گولز، کنورجنگ انٹرسٹس‘‘ یا ’’ایک سے اہداف، تبدیل ہوتے مفادات‘‘۔ تاہم بھارت نے ابھی تک آسٹریلیا کو ترجیحی بنیادوں پراپنا سکیورٹی پارٹنر تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا نے سکیورٹی امور میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سن دو ہزار نو میں ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی کیے تھے لیکن اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان فوجی مشقوں کی سطح پر تعاون سست روی کا شکار ہے۔ اس سرد مہری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آسٹریلیا نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے بھارت کو سول مقاصد کے لیے یورینیم کی فروخت سے انکار کر دیا تھا۔ دستاویز میں آسٹریلیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یورینیم کی فروخت کی منظوری دے۔

سن دو ہزار نو سے چین کی جانب سے دوسرے ممالک کو مبینہ طور پر سمندری حدود میں ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد بھارت کی اس شعبے میں ترقی اور بہتری کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تھا۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM