1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا گولن کو حوالے کرے، سمجھوتہ نہیں ہو گا: ترک وزیراعظم

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کی باقاعدہ درخواست کر دی گئی ہے اور ترکی اس مطالبے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ہفتے کے روز اپنے بیان میں بن علی یلدرم نے ایک مرتبہ پھر گزشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی ذمہ داری امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے مسلم مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ہرحال میں گولن کو ترکی کے حوالے کرنا ہو گا۔

یلدرم نے یہ بات ترک صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کی 24 تاریخ کو امریکی نائب صدر جوبائیڈن بھی ترکی پہنچ رہے ہیں، جب کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی اگلے ماہ ترکی کا دورہ کریں گے۔

ہفتے کے روز ترک صحافیوں کو دی گئی اس بریفنگ میں موجود سی این این ترک کے جنرل مینیجر نے بتایا کہ یلدرم کا اس بابت موقف انتہائی واضح تھا، ’’امریکا اور ہمارے درمیان تعلقات میں بہتری کا کلیدی نکتہ گولن کی ترکی کو حوالگی ہے۔ اس پر کسی قسم کی مزید بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘

Türkei Erdoganunterstützer in Ankara gegen Fethullah Gülen

یلدرم کے مطابق ترکی میں امریکا مخالف جذبات کا معاملہ بھی گولن کے ترکی کے حوالے کرنے یا نہ کرنے سے جڑا ہے

یلدرم نے مزید کہا، ’’ترکی میں امریکا مخالف جذبات میں کمی یا زیادتی کا دارومدار بھی اسی معاملے پر ہے۔‘‘

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کی حکومت کے بقول مغربی حکومتوں کی جانب سے ترکی میں گزشتہ ماہ ہونے والی ناکام فوجی بغاوت پر ’کم شدت کی مذمت‘ کی گئی۔ اس کے علاوہ اس بغاوت میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف سخت ترک کریک ڈاؤن پر سخت مغربی تنقید پر بھی ایردوآن حکومت سخت برہم ہے۔

جولائی میں اس ناکام فوجی بغاوت کے نیتجے میں مجموعی طور پر قریب ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ترک فوج کے ایک گروپ نے حکومتی تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

وزیراعظم یلدرم نے بتایا کہ بغاوت کی اس کوشش کے بعد سے اب تک 81 ہزار سے زائد ملازمین کو معطل کیا جا چکا ہے، جس میں تین ہزار سے زائد فوجی بھی شامل ہیں۔

ترک حکومت کے مطابق ملازمتوں سے برخواست یا معطل کیے گئے افراد میں شامل افراد کا تعلق عدلیہ، فوج، متعدد دیگر وزارتوں اور گولن کی تحریک سے وابستہ اسکولوں سے ہے۔ پولیس نے اسی سلسلے میں 35 سو سے زائد افرد کو حراست میں بھی لیا ہے، جن میں سے 17 ہزار سے زائد پر اس بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمات شروع کیے جا رہے ہیں۔