1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن اچانک دورے پر عراق میں

امریکی نائب صدر جو بائیڈن ایک اچانک دورے پر عراق میں ہیں۔ دورے کا مقصد اس سیاسی بحران کو حل کرنے میں عراقی رہنماؤں کی مدد کرنا ہے، جس کے باعث دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو شکست دینے کی کوششیں خلل کا شکار ہو رہی ہیں۔

Irak US-Vizepräsident Joe Biden Ankunft in Bagdad

جو بائیڈن کا استقبال عراق میں امریکی سفیر کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف سرگرم امریکی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شین میک فارلینڈ نے کیا

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جو بائیڈن واشنگٹن سے ایک فوجی طیارے کے ذریعے روانہ ہوئے، جو رات بھر کی خفیہ پرواز کے بعد آج جمعرات کو عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ گیا۔ بغداد کی گرم اور گرد آلود سہ پہر میں جو بائیڈن کا استقبال عراق میں متعینہ امریکی سفیر کے ساتھ ساتھ عراق میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف سرگرم امریکی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شین میک فارلینڈ نے کیا۔

2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے بائیڈن کا یہ پہلا دورہٴ عراق ہے۔ ان کی سلامتی کے پیش نظر وائٹ ہاؤس نے ان کے واشنگٹن سے بغداد تک کے سترہ گھنٹے کے سفر کی تفصیلات تو نہیں بتائیں البتہ اتنا ضرور بتایا کہ وہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف جاری لڑائی پر تبادلہٴ خیال کے ساتھ ساتھ عراق میں جاری سنگین سیاسی بحران کے پیش نظر اس ملک کے سیاسی رہنماؤں پر آپس میں متحد ہو جانے کے لیے زور دیں گے۔

بائیڈن کا دورہ ایک ایسے وقت پر عمل میں آ رہا ہے جب سیاسی اصلاحات کے لیے منعقدہ حالیہ احتجاجی مظاہروں اور مطالبات نے بغداد حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ بغداد حکومت پہلے ہی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف برسرپیکار ہونے اور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہونے کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے۔

اسی طرح بائیڈن ایک ایسے وقت پر عراق پہنچے ہیں، جب اوباما انتظامیہ نے اضافی فوجی دستوں اور ساز و سامان کے ساتھ خطّے میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما آئندہ برس جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں اور واشنگٹن انتظامیہ اُن کے رخصت ہونے سے پہلے پہلے عراق کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کی امید کر رہی ہے۔

بغداد میں بائیڈن کی ملاقاتوں کا شیڈول عام نہیں کیا گیا تاہم وہ عراقی حکام کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی افسران سے بھی ملیں گے۔

Irakischer Ministerpräsident Haider al-Abadi

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی

جمعرات کو سب سے پہلے بائیڈن نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے ری پبلک پیلس میں شیعہ وزیر اعظم حیدر العبادی کے ساتھ ملاقات کی، جنہیں عراق کے موجودہ سیاسی بحران میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور جنہیں واشنگٹن انتظامیہ ان کے پیشرو نوری المالکی کے مقابلے میں بہتر خیال کرتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اصلاحات کے دیرینہ وعدوں کو پورا کرنے اور فرقہ ورانہ کشیدگی پر قابو پانے میں ناکامی نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایسے ہی مسائل کے باعث ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف کامیابیاں بھی ایک خاص حد تک آ کر رک گئی ہیں۔