1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کارروائی کریں گے، ترکی

ترک حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی امریکا کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف مربوط فوجی کارروائی کا آغاز کرے گی۔

کئی ماہ تک ترکی داعش کے خلاف قائم امریکی عسکری اتحاد میں شامل رہا، تاہم صرف جزوی طور پر۔ تاہم اب انقرہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر اس شدت پسند اسلامی تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

داعش عراق اور شام میں نہ صرف یہ کہ فعال ہے بلکہ اس نے ان دونوں ممالک کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔ داعش کی سرگرمیاں اور کارروائیاں ترکی کی شام سے ملحقہ سرحد تک پہنچ چکی ہیں ، جس کی وجہ سے ترک حکومت کو اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنا پڑ رہی ہے۔

ماضی میں ترک حکومت اپنے مخالف کردوں کی اس بنا پر حمایت کرتی رہی تھی کہ اس کا اور کردوں کا مشترکہ دشمن ایک ہی تھا، یعنی داعش۔ تاہم چند ہفتوں قبل ترکی نے کردوں کے ساتھ امن معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کردوں پر حملے دوبارہ شروع کر دیے، جن کے بارے میں مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بالواسطہ طور پر اسلامی عسکریت پسندوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔

مگر ملائیشیا میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس میں ترک وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا کہ ترکی داعش کے خلاف مہم کو تیز کرنے جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی نے امریکا کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اس مہم کے لیے اس کا ایئر بیس استعمال کر سکے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’امریکی طیارے آنا شروع ہو گئے ہیں اور جلد ہی داعش کے خلاف ہم مل کر کارروائی کریں گے۔‘‘

ترکی کا مؤقف ہے کہ شام میں داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قدامت پسند باغیوں کو مدد ملے گی، جنہیں بعد میں امریکا اور ترکی مل کر تربیت بھی دیں گے۔

امریکی اور ترک وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات بدھ کے روز کوالا لمپور میں ہوئی، جس میں خطے کی سلامتی کے بارے میں دیگر امور پر بھی گفت گو ہوئی۔

واشنگٹن نے انقرہ کی جانب سے کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں پر حملوں کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے ترکی نے اپنے دفاع میں کیے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا کردستان ورکرز پارٹی کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔