1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کے سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برژنسکی انتقال کر گئے

برژنسکی ہی متحارب افغانیوں کو مسلح کرنے کی امریکی پالیسی کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ جمی کارٹر کے دورِ صدارت کا سب سے اہم ترین پہلو مصر اسرائیل سمجھوتے کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں بھی برژنسکی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

زبِگنیو برژنسکی کارٹر انتظامیہ کا ایک انتہائی اہم حصہ تصور کیے جاتے تھے۔ رحلت کے وقت وہ نواسی برس کے تھے۔ اُن کی بیٹی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ رحلت کے وقت پرسکون تھے۔

افغانستان میں سابق سوویت یونین کی فوج دسمبر سن 1978 کے آخر میں داخل ہوئی تھی۔ کچھ مقامات پر افغان قبائل نے اس فوج کشی کی مزاحمت کی اور امریکا نے انہی افغان مزاحمت کاروں کو مسلح کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ برژنسکی ہی متحارب افغانیوں کو مسلح کرنے کی امریکی پالیسی کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ سوویت یونین کی فوج کی افغانستان میں داخل ہونے کے بعد وہ پاکستان بھی فوری طور پر پہنچے تھے اور خطے کی صورت حال اور امریکی پالیسی اُس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیاءالحق کے ساتھ زیرِ بحث لائے تھے۔

  امریکا اور چین کے تعلقات کو بہتر کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اپنی سفارتی رابطہ کاری کے باعث وہ سن 1978 میں چین کے دورے پر بھی گئے۔ اس دورے کے بعد امریکی صدر جمی کارٹر نے سن 1979میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Zbigniew Brzezinski und Jimmy Carter (picture-alliance/dpa/White House)

سابق امریکی صدر اور برژنسکی

کارٹر ہی کے دور میں ان کی تجویز پر ایران میں باون امریکی مغویوں کی رہائی کے لیے فوجی ایکشن لیا گیا جو ناکامی سے ہمکنار ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جمی کارٹر کی دوسری مدت صدارت کے الیکشن میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ اسی فوجی مشن کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔ اُن کے بعد صدر بننے والے رونالڈ ریگن نے اس ناکامی کو بڑھا چڑھا کر مہم میں پیش کیا تھا۔ برژنسکی پورے چار برس کارٹر کے مشیر رہے تھے۔

 جمی کارٹر کے دورِ صدارت کا سب سے اہم ترین پہلو مصر اسرائیل سمجھوتے کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد مصر اور اسرائیل کے درمیان سفارتی روابط استوار ہوئے تھے۔ اس میں بھی برژنسکی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ ایک پولستانی سفارت کار کے بیٹے تھے۔ انہوں نے سن 1858 میں امریکی شہریت اختیار کی تھی۔ کارٹر انتظامیہ میں شامل ہونے کے وقت وہ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ تمام عمر وہ امریکی خارجہ پالیسی میں سخت موقف رکھنے کے حامی خیال کیے جاتے رہے۔

وہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں اٹھائیس مارچ سن 1928میں پیدا ہوئے تھے۔