1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کے دیرینہ حلیف اور اوباما

امریکی صدر باراک اوباما آج سے سعودی عرب، برطانیہ اور جرمنی کے چھ روزہ دورے پر ہیں۔ اِس دورے میں وہ کئی اہم معاملات کوسعودی شاہ، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں زیربحث لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما کی مدتِ صدارت اگلے برس جنوری میں ختم ہو جائے گی۔ اپنے آٹھ سالہ دورِ صدارت میں اوباما نے امریکی خارجہ پالیسی کے لیے چند نئی سمتوں کا بھی تعین کیا ہے۔ ان میں سب سے اہم ایران کے ساتھ جوہری ڈیل اور کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی خیال کیے جا رہے ہیں۔ آج سے امریکی صدر کے اس سہ ملکی دورے میں کوئی ایسا ملک شامل نہیں جو امریکی ترجیحات میں کم اہمیت کا حامل ہے بلکہ اوباما کے دورے کی تینوں منزلیں دیرینہ حلیف ممالک کی ہیں۔ یہ تینوں ممالک مختلف قسم کے مسائل سے نبردآزما ہیں، جو دہشت گردی سے لے کر عالمی سیاست کے مرکزی دھارے سے دور ہونے سے منسلک ہیں۔

امریکی صدر منگل سے شروع ہونے والےچھ روزہ دورے کے دوران سعودی عرب، برطانیہ اور جرمنی جائیں گے۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان کے ساتھ ملاقات کے علاوہ وہ خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ اس دورے میں بہ ظاہر ایران اور یمن ایسے اہم ترین موضوعات ہیں، جن پر سعودی اور امریکی رہنماؤں کی توجہ مرکوز رہے گی۔ خلیجی ریاستوں کا موقف ہے کہ جوہری ڈیل کے بعد ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے علاوہ بالادستی قائم کرنے کی کوششوں میں ہے۔ بیس اپریل کے خلیجی کونسل کے اجلاس کے بعد کونسل کی رکن ریاستیں اگے کچھ عرصے میں کیمپ ڈیوڈ میں بھی امریکی صدر سے ملاقات کریں گی۔

سعودی عرب کے بعد باراک اوباما برطانیہ جائیں گے جہاں وہ ملکہ ایلزبتھ کی90ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ لندن میں قیام کے دوران وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ملاقات میں اوباما بین الاقوامی امور پر گفتگو کریں گے۔ اُن کے دورے کی آخری منزل جرمنی ہے۔ جرمنی میں جہاں وہ چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ملاقات کریں گے وہیں وہ ہینوور شہر میں شروع ہونے والے بین الاقوامی انڈسٹریل میلے میں شریک ہوں گے۔ جرمن چانسلر کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر یورپی یونین کی رکنیت کے حوالے سے برطانوی ریفرنڈم اور جرمنی اور یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کے علاوہ یورپی اقوام کو درپیش دہشت گردای کے خطرات پر ممکنہ بات چیت کریں گے۔

Barack Obama Weißes Haus Hubschrauber

اوباما کے دورے کی تینوں منزلیں دیرینہ حلیف ممالک کی ہیں

یہ امر اہم ہے کہ وائٹ ہاؤس برطانیہ اور جرمنی کو اپنے اہم ترین اتحادیوں میں شمار کرتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کو بھی خلیجی خطے میں امریکا کا اہم ترین پارٹنر تصور کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکا کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ خلیجی خطے کے اعتبار سے اسلامک اسٹیٹ مسلسل ایک بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہے بلکہ پیرس اور برسلز حملوں کے بعد اب اِس عسکریت پسند تنظیم کو یورپ کے بعض دوسرے ملکوں کے لیے بھی خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ یورپ میں مہاجرین کے بحران اور برطانیہ میں یورپی یونین کی رکنیت رکھنے یا چھوڑنے کے موضوع پر ریفرنڈم کو بھی امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کسی حد تک چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔