امریکا کی بھارتی منڈیوں میں رسائی کی نئی کوشش | حالات حاضرہ | DW | 06.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کی بھارتی منڈیوں میں رسائی کی نئی کوشش

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کل منگل کے روز امریکی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک اپنے تجارتی حجم میں مزید اضافے کے اقدامات کی منظوری دے سکتے ہیں۔

سن 2009 میں جب امریکی صدر باراک اوباما نے اپنا منصب سنبھالا تھا تب بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی پر امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد تھی۔ مودی نے بھارتی وزیراعظم کا منصب مئی سن 2014 میں سنبھالا تو امریکی پابندی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ گزشتہ دو برسوں میں مودی نے امریکا کا چار مرتبہ دورہ کیا اور دو مرتبہ وہ واشنگٹن پہنچے ہیں۔ بقیہ دو بار وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے امریکا گئے تھے۔

امریکی صدر بھی اپنے دورِ صدارت میں دو مرتبہ بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں اب امریکا اور بھارت کے تعلقات میں خاصی گرم جوشی پیدا ہو چکی ہے۔ قبل ازیں ایسی صورت حال نہیں تھی کیوں کہ بھارت اپنی منشا اور مرضی کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی تراش خراش چاہتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات کی موجودہ سطح کے تناظر میں دونوں لیڈروں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آ سکتا ہے کہ اُن کی قیادت میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں بہتری وقوع پذیر ہوئی ہے۔

Indien Barack Obama Narendra Modi Treffen

نریندر مودی اور اور باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما کی مدتِ صدارت اگلے برس جنوری میں ختم ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اب اوباما کے بعد آنے والے صدور پر منحصر ہو گا کہ وہ براعظم ایشیا کے اِس بڑے ملک کی بڑی مارکیٹ میں کس طرح امریکی مصنوعات کے فروخت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ منگل کے دن نریندر مودی امریکی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں اور اندازوں کے مطابق ان کے استقبال کو قدرے نچلی سطح پر رکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری ایس جے شنکر کا کہنا ہے کہ مودی کو اوباما نے اِس دورے کی دعوت دی ہے اور وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی لیڈرشپ میں مثبت ورکنگ تعلقات پائے جاتے ہیں۔

اِس ملاقات میں دونوں ملکوں کے لیڈران توقع رکھتے ہیں کہ دو طرفہ تجارتی حجم کو 120 بلین ڈالر کی سطح سے بڑھا کر 500 بلین ڈالر تک لایا جائے۔ اِس مناسبت سے نئے معاہدات کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایس جے شنکر کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے دورے سے یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی یہ ایک اور کوشش ہے۔ نریندر مودی واشنگٹن کے نواح میں امریکی نیشنل قبرستان میں پھول رکھنے کے علاوہ امریکی تھنک ٹینکوں کے سینیئر ریسرچرز سے بھی ایک میٹنگ میں شریک ہوں گے۔

DW.COM