1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کو مشترکہ آپریشن کی دعوت، متعدد سیاسی جماعتیں چراغ پا

پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکا کو مشترکہ آپریشن کی پیش کش نے ملک میں متعدد سیاسی جماعتوں کو چراغ پا کر دیا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے ایکسپریس ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں یہ کہا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو یہ پیش کش کی ہے کہ وہ ثبوت کے ساتھ یہ بتائے کہ پاکستان کے کون سے علاقے میں حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ نشاندہی کیے جانے والے علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی کوئی بھی سر گرمی ہوئی، تو پھر پاکستان کی فوج امریکا کے ساتھ مل کر انہیں ہمیشہ کے لئے تباہ کر دے گی۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس بیان پر اپنا سخت ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ملکی خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فیصل جاوید خان نے اس بیان پر اپنی پارٹی کا موقف دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’خواجہ آصف نے یہ بیان امریکا کو خوش کرنے کے لئے دیا ہے کیونکہ خواجہ آصف جیسے لوگوں کے مفادات امریکا سے وابستہ ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف بہت سے جانیں قربان کیں ہیں۔ ہم صرف اپنی ہی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ بین الاقوامی برادری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم نے کئی دہشت گرد ختم کر دیے ہیں اور اگر کچھ باقی ہوں گے تو ان کو بھی ہماری فوج ختم کر دے گی۔ ہمیں کسی مشترکہ آپریشن کی ضرورت نہیں۔‘‘

امریکا پاکستان کو تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد نہیں دے گا
ان کے خیال میں یہ بیان ن لیگ حکومت کی پالیسی کا عکاس ہے اور اس بیان کو جی ایچ کیو کی تائید حاصل نہیں، ’’میرے خیال میں یہ نون لیگ کا بیان ہے۔ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے لیکن کوئی اور ہے جو اس میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ آرمی نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ کے خلاف بہت کچھ کر چکا ہے۔ اب دنیا کی باری ہے کہ وہ ’ڈو مور‘ کرے، تو پھر یہ بیان آرمی کی سوچ کا عکاس کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘
پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان عمر ریاض عباسی نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’خواجہ آصف کو بین الاقوامی معاملات اور خارجہ امور کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ اگر ملک میں کوئی دہشت گردوں کا نیٹ ورک ہے، تو پاکستانی فوج کو اس کے خلاف کام کرنا چاہیے۔ امریکی فوج کے ساتھ کسی مشترکہ آپریشن کے ضرورت نہیں ۔‘‘

’سخت پیغام‘ لے کر دو امریکی وزیر اسی ماہ پاکستان جائیں گے
سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے خوب چرچے ہیں جب کہ کئی ٹاک شوز میں بھی یہ بیان موضوع بحث رہا۔ خواجہ آصف نے اس سے پہلے ایک اور متنازعہ بیان بھی دیا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا گھر بھی درست کرنا ہوگا۔ ان کے اس بیان پر بھی پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں بہت احتجاج ہوا تھا۔ تاہم ان کے اس بیان کی وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے تائید کی تھی جب کہ عمران خان اور چوہدری نثار اس بیان پر خواجہ آصف پر خوب برسے تھے۔
تاہم خواجہ آصف کے بیان کی تعریف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ بلوچستان میں ن لیگ کے سیاسی اتحادی پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس بیان پر خوش ہے اور اس کی بھر پور حمایت بھی کرتی ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس بیان پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں یہ بہت مثبت بیان ہے جب تک ہم اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم نہیں کریں گے، خطے میں امن نہیں آئے گا۔ اگر ہم دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کر دیں، تو دنیا بھی ہم پر اعتبار کرنے لگے لگی اور ہمارے ملک کو، جس تباہی کا سامنا ہے، ہم اس سے بھی بچ سکیں گے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ بیان اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کا عکاس نہیں ہے کیونکہ وہ تو یہ پالیسی تبدیل کرنا نہیں چاہتے اور شیریں مزاری کا بیان بھی اس کا عکاس ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ پی ٹی آئی والے کس کی زبان بولتے ہیں اور کن کے اشاروں پر بیانات دیتے ہیں۔‘‘
اس بیان پر ابھی تک آئی ایس پی آر یا دفترِ خارجہ کا کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ تاہم جب ڈی ڈبلیو نے ن لیگ کے رہنما راجہ ظفر الحق سے اس بیان کی بابت دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا، ’’میں نے خواجہ آصف کا بیان نہیں پڑھا اور نہ ہی میں اس بیان کے سیاق و سباق سے واقف ہوں۔ لہذا میں اس بیان کو پڑھے بغیر اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘‘

DW.COM