1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا کو تجارتی معاہدے ’ٹی پی پی‘ سے نکال لیں گے، ٹرمپ

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی دن امریکا کو آزاد تجارتی معاہدے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی) سے نکال لیں گے۔ وہ اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں میں مزید کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں انہوں نے اپنے ان منصوبوں کی تفصیلات بتائی ہیں، جنہیں وہ وائٹ ہاؤس میں آنے کے بعد ایک سو دنوں میں عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر بیس جنوری کو اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے، جس کے بعد ٹرمپ باقاعدہ طور پر صدارت کے عہدے پر فائز ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا وہ دفتر میں آنے کے پہلے ہی دن صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکا کو ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ معاہدے سے مکمل طور پر نکال لیں گے۔ اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ بارہ ملکوں کے اس تجارتی معاہدے کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھا کہ ملازمتوں کے حوالے سے یہ معاہدہ ایک ’تباہ کن‘ معاہدہ ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کا مزید کہنا تھا، ’’ٹی پی پی معاہدے کی بجائے ہم منصفانہ مذاکرات کریں گے، دو طرفہ تجارتی معاہدے کریں گے، جن سے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی افزائش کو امریکا میں پھیلنے دیں گے۔‘‘

باراک اوباما ابھی تک ٹی پی پی معاہدے کے شدید حامی رہے ہیں۔ اوباما اس معاہدے کے تحت امریکا اور ایشیائی ممالک کے مابین تجارتی رابطوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ اس طرح کے معاہدوں کے تحت ملازمتوں کے مواقع بیرون ملک ہی پیدا ہوتے ہیں۔

ٹی پی پی کے علاوہ بھی نامزد امریکی صدر نے کئی موضوعات پر بات کی ہے لیکن واضح تفصیلات انہوں نے کسی کے بارے میں بھی فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں ایسی پابندیاں ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن کی وجہ سے ملازمتیں اور پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کوئلے سے بجلی کی پیداوار اور فریکنگ کے طریقہ ء کار کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کئی لاکھ امریکیوں کو روزگار ملے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خفیہ ایجنسیوں کو سائبر حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات دیے جائیں گے۔ اسی طرح ہر حملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ تفصیلات انہوں نے نہیں بتائیں کہ یہ سب کچھ کیسے کیا جائے گا؟

اسی طرح انہوں نے کہا کہ منسٹری آف لیبر ہر اس کیس کا از سر نو جائزہ لے گی، جس میں ویزے کا غلط استعمال کیا گیا ہو۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پانچ برس جو عہدیدار امریکی حکومت کے لیے کام کرنا چاہتا ہے، اسے کسی بھی لابی کے لیے کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور ایسے کسی بھی عہدیدار کو کسی دوسرے ملک کے لیے زندگی بھر لابنگ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’واشنگٹن میں اصلاحات لانے اور مڈل کلاس کی تعمیر کے لیے یہ چند اقدامات ہیں لیکن مزید کیے جائیں گے۔‘‘

DW.COM