1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا پر جنگی جرائم کے الزامات

دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر یا مستغیث اعلٰی فاتو بنسودا کے مطابق امریکی فوج اور خفیہ ایجنسی کے اہلکار افغانستان میں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مستغیث اعلٰی فاتو بنسودا نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اہلکاروں نے مبینہ طور پر کم از کم اٹھاسی گرفتار شدگان پر شدید تشدد کیا اور ان سے وحشیانہ سلوک روا رکھا۔ ان کے بقول وہ اس بارے میں ججوں سے امریکی فوجیوں اور سی آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف جامع تحقیقات شروع کرنے کے بارے میں اجازت لینے کے حوالے سے جلد ہی فیصلہ کرنے والی ہیں۔

بنسودا نے مزید کہا کہ افغان طالبان، ملکی سرکاری دستوں اور امریکی فوج کے ساتھ ساتھ سی آئی اے پر بھی ایسے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ آئی سی سی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ’’یکم مئی 2003ء سے لے کر اکتیس دسمبر 2014ء تک کم از کم 61 قیدیوں پر تشدد کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔‘‘ 

انہوں نے مزید واضح کیا کہ امریکی فوج کی جانب سے افغانستان میں قائم خفیہ حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں پہلے بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں، ’’یہ جرم کسی فرد واحد کا ذاتی عمل نہیں ہے بلکہ یہ اُس پالیسی یا اُن پالیسیوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو قیدیوں سے تفتیش کے لیے وحشیانہ اور تکلیف دہ طریقے اپنانے کے حوالے سے تیار کی گئی تھیں۔‘‘ ان کے بقول ان واقعات پر یقین  کرنے کے لیے ان کے پاس معقول بنیاد ہے۔

اگر اس سلسلے میں تفتیش شروع ہوئی تو بین الاقوامی عدالت کی جانب سے امریکی فوجیوں کے خلاف تحقیقات کا یہ پہلا واقعہ ہو گا۔ امریکا اس بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کو مسترد کر چکا ہے۔ کابل حکومت 2003ء میں آئی سی سی کی توثیق کر چکی ہے، جس کے بعد عالمی عدالت  کو افغانستان میں ہر طرح کے مظالم کی تحقیقات کرنے کا اختیار ہے۔