امریکا پاکستان کے خلاف کون سے اقدامات اٹھا سکتا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا پاکستان کے خلاف کون سے اقدامات اٹھا سکتا ہے؟

ایک ایسے وقت میں، جب پاکستانی سیاست دان اور مذہبی رہنما امریکا کے خلاف جوشیلے بیانات دے رہے ہیں، ملک کے کئی تجزیہ نگار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ امریکا ممکنہ طور پر پاکستان کے خلاف کون سے تادیبی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

پاکستان نوے کی دہائی میں بھی اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا شکار رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں بھی اس کی امداد کے کچھ حصے کو روکا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی امداد میں مزید کمی ہو سکتی۔ اس حوالے سے سابق پاکستانی سفیر برائے ایران فوزیہ نسرین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’امریکا پاکستان کی امداد مزید کم کر سکتا ہے۔ فاٹا میں تو وہ ڈرون حملے کر رہا ہے، اب ممکن ہے کہ دوسرے علاقوں میں بھی ایسے حملے کئے جائیں۔ پاکستان ماضی میں امریکی ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں ہم نے جے ایف تھنڈر بھی بنایا ہے۔ تاہم ہتھیاروں کے حوالے سے اب بھی ہم کسی حد تک امریکا پر انحصار کرتے ہیں۔ تو اس کے حوالے سے بھی مشکلات آسکتی ہیں۔‘‘

’امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں‘
سابق پاکستانی سفیر برائے امریکا اشرف جہانگیر قاضی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکا ایک طاقت ور ملک ہے اور وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہمارا غیر نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہیں اور ہمیں آئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں کے پاس قرضوں کے لئے جانا پڑے گا، جہاں امریکا کا بہت اثر و رسوخ ہے اور وہ وہاں اس اثر ورسوخ کو استعمال کر سکتا ہے، جس سے ہماری مالی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوہ کا بہانہ بنا کر بھی ہم پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ واشنگٹن یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم نے آپ کو اس حوالے سے خبر دار کیا تھا اور دونوں ملکوں کے فوجی حکام کے درمیان ان مسائل پر بات چیت بھی ہوئی تھی لیکن کیونکہ آپ نے کچھ نہیں کیا تو ہم یہ پابندیاں لگا رہے ہیں۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان کے پاس بھی آپشن ہیں۔ امریکا افغانستان میں جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کے وہاں بیس ہزار فوجی اور پچاس ہزار کے قریب کنٹریکڑز موجود ہیں۔ ان کے پاس بہت سے سامان جاتا ہے، جو پاکستان کے ذریعے ہی جاتا ہے۔ تو پاکستان یہ راستہ بند کر سکتا ہے، جس سے امریکا کو بہت پریشانی ہوگی۔‘‘

پاکستان سے صرف جھوٹ اور دھوکہ ملا، صدر ٹرمپ
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی امداد پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تو امریکا پاکستان کے لئے کسی اور طریقے سے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ ان مشکلات کے حوالے سے دفاعی تجزیہ نگار جنرل امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان کے بہت سے معاشی مسائل ہیں اور سی پیک کے ذریعے ہم ان معاشی مشکلات کو بہت حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اس لئے پاکستان جلد از جلد اس کی تکمیل چاہتا ہے۔ میرے خیال میں امریکا سی پیک کی راہ میں روڑے اٹکا سکتا ہے۔ وہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گڑ بڑ کر سکتا ہے۔ اس کے خیال میں گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے، تو وہ وہاں گڑ بڑ پیدا کر کے بین الاقوامی طور پر شور مچا سکتے ہیں اور وہاں بین الاقوامی فوجیں بھیجنے کی بات کر سکتے ہیں۔ جب ٹیلر سن نے یہ کہا تھا کہ پاکستان اپنا علاقہ کھو سکتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ شمالی علاقوں، گوادر یا بلوچستان کے دوسرے حصوں میں گڑ بڑ کرائی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے، تو اگر وہاں مسائل ہوتے ہیں، تو سی پیک کے لئے مسائل ہوں گے اور سی پیک کے لئے مسائل پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔‘‘

پاکستانی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی، اعلیٰ امریکی جنرل
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان جوابا انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون ختم کر سکتا ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس تعاون کی بدولت پاکستان نے نہ صرف خود القاعدہ کے دہشت گرد پکڑے بلکہ امریکا نے بھی کئی دہشت گرد اس تعاون کی وجہ سے گرفتار کئے۔ اس کے علاوہ امریکی سفارت خانے کے عملے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں اس سفارت خانے میں عملے کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نیٹو سپلائی بھی روکی جا سکتی ہے۔ اب امریکا کو شمالی روٹ بھی آسانی سے نہیں ملے گا اور اگر مل بھی گیا تو وہ بہت مہنگا پڑے گا۔ پاکستان ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے پاکستانیوں کے لئے معاوضے کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے اور اس کے لئے بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی جا سکتا ہے۔‘‘

DW.COM