1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا پاکستان کو تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد نہیں دے گا

امریکی وزارت دفاع نے پاکستان کے لیے تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہ لینے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

USA Pentagon Luftaufnahme

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار دو سے لے کر اب تک کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کو چودہ بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں

پینٹاگون کے ترجمان ایڈم سٹمپ کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں دی جانے والی رقم جاری نہیں کی جا سکی کیونکہ امریکی سیکرٹری دفاع نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے عسکریت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی کی ہے۔

سٹمپ نے مزید کہا کہ ’رقم روکے جانے کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی ان قربانیوں کی اہمیت کو کم نہیں کرتا، جو اس نے گزشتہ دو برسوں میں دی ہیں۔‘‘

پاکستان کو تین سو ملین ڈالر اس کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت دیے جانے تھے، جو امریکی محکمہٴ دفاع انسداد دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اتحادی ممالک کو دیا کرتا ہے۔ امریکی محکمہٴ دفاع کا کہنا ہے کہ اس مد میں اب تک سب سے زیادہ رقم پاکستان کو دی گئی ہے۔

USA Pentagon Verteidigungsminister Ash Carter

امریکی سیکرٹری دفاع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے عسکریت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی کی ہے

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار دو سے لے کر اب تک کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کو چودہ بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں۔ پینٹا گون کی طرف سے پاکستان کے لیے امدادی رقم روکے جانے کا فیصلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ امریکی وزارت دفاع اگرچہ شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے آپریشن میں بہتری دیکھتی ہے، پھر بھی ابھی پاکستان کی جانب سے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

دوسری جانب پاکستان خود پر لگنے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دینےکے الزام کو مسترد کرتا آیا ہے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ اسلام آباد کئی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف پہلے سے ہی کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ کس حد تک ایسے آپریشنز کر سکتا ہے، اس کی بھی کوئی حد مقرر ہونی چاہیے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک ترجمان ندیم ہوتیانا کے مطابق کولیشن سپورٹ فنڈ پاکستان اور امریکا کے درمیان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے کی گئی دیگر کئی کاوشوں میں سے ایک ہے۔ امریکا پاکستان تعلقات میں رواں برس مئی میں اس وقت تناؤ بیدا ہو گیا تھا جب افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کو ایک امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی سر زمین پر ہلاک کیا گیا تھا۔

Taliban Chef Mullah Achtar Mansur

امریکا پاکستان تعلقات ملا اختر منصور کی پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے تناؤ کا شکار ہیں

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکی کانگریس میں پاکستان کو فوجی امداد دینے کے معاملے پر مزاحمت میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی قانون سازوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کے عزم اور افغان امن عمل میں تعاون پر سوال اٹھائے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں برس مارچ میں ریپبلکن جماعت کے سینیٹر بوب کورکر نے کہا تھا کہ وہ سینیٹ کے خارجہ تعلقات کے چئیرمین کے طور پر پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لیے امریکی امداد روکنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔

DW.COM