1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا نے کہا کہ النصرہ فرنٹ کو نشانہ نہ بنایا جائے، ماسکو

روس کے مطابق واشنگٹن حکومت نے ماسکو سے کہا تھا کہ وہ شام میں القاعدہ کی شاخ النصرہ فرنٹ کو نشانہ نہ بنائے۔ تاہم امریکا کے مطابق اس نے صرف احتیاط برتنے کا کہا تھا تاکہ حزب اختلاف کے دیگر گروپوں کو نقصان نہ پہنچے۔

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ٹیلی وژن پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ان سے کہا تھا کہ النصرہ فرنٹ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ دوسری جانب جمعے کے روز امریکا نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے روس سے احتیاط برتنے کا کہا تھا تاکہ عام شہری اور ’جائز اپوزیشن گروپ‘ محفوظ رہیں۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق وہ کئی مرتبہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ امریکی حمایت یافتہ اعتدال پسند اپوزیشن گروپوں کو ان علاقوں سے نکل جانا چاہیے، جو النصرہ فرنٹ کے زیر کنٹرول ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ امریکا سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ جنگ بندی کے معاہدے کو نافذالعمل بنایا جائے لیکن داعش اور النصرہ فرنٹ سے لڑائی ان کی اولین ترجیح ہے۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’وہ ہم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اسے(النصرہ فرنٹ) کو نشانہ نہ بنایا جائے کیوں کہ ’نارمل اپوزیشن گروپ‘ اس کے بالکل قریب ہیں۔ لیکن اس اپوزیشن کو دہشت گردوں کے مقامات سے نکل جانا چاہیے اور ہم نے اس پر اتفاق بھی کیا تھا۔‘‘

دریں اثناء پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ جمعے کے روز انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، جس دوران شام میں تشدد کے اضافے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کے مابین یہ گفتگو تقریباﹰ ایک گھنٹہ جاری رہی۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ جان کیری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روس النصرہ فرنٹ اور ’جائز اپوزیشن گروپوں‘ کے درمیان تمیز کرتے ہوئے حملے کرتے وقت احتیاط سے کام لے، ’’یہ ایک عام موضوع ہے، جسے ہم گزشتہ کئی ہفتوں سے روس تک پہنچا رہے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس بات پر تمام متفق ہیں کہ داعش اور النصرہ فرنٹ شامی سرزمین پر ایک اصل خطرہ ہیں۔‘‘

گزشتہ روز یہ خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ امریکا نے شام میں لڑنے والے باغیوں کے لیے فضائی حدود سے ہتھیار پھینکے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ یہ ہتھیار ان عسکری گروپوں کے لیے ہیں، جو شام میں داعش کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس بات کا بھی خدشہ موجود ہے کہ ان ہتھیاروں کو باغی اسد فورسز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب ایک سابق روسی سفارتکار نے ایک عرب ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ روس سنجیدگی سے یہ سوچ رہا ہے کہ وہ شام میں اپنے زمینی فوجی دستے بھیج دے۔